اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران نے سعودی عرب پر کسی بھی قسم کے حملے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے امریکا کے ساتھ سفارتی رابطوں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ایران نے نہ تو سعودی عرب کو نشانہ بنایا ہے اور نہ ہی خطے میں کشیدگی بڑھانے میں کوئی دلچسپی رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اطلاعات اور دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور ان کا مقصد خطے میں مزید بے یقینی پیدا کرنا ہے۔
ترجمان نے جنگ بندی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکا کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی واضح خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے جنگ بندی کی شرائط کا احترام کیا اور اس پر مکمل عمل درآمد کیا، تاہم دوسری جانب سے اس کی پاسداری نہیں کی جا رہی۔
یہ بھی پڑھیں
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں شدت، میزائل حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری
انہوں نے کہا:”ہم جنگ بندی کے پابند تھے اور ہیں، لیکن امریکا کی جانب سے اس کی خلاف ورزیاں واضح ہیں۔ ایسی صورتحال میں ذمہ داری ان فریقوں پر عائد ہوتی ہے جو اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کر رہے۔”ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق کشیدگی کے باوجود سفارتی راستے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے اور پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔ ترجمان نے پاکستان کے کردار کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تعمیری کوششیں کی ہیں۔
ایران نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ تنازعات کا حل فوجی کارروائیوں میں نہیں بلکہ سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اگر تمام فریق سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو خطے میں امن اور استحکام کے لیے پیش رفت ممکن ہے۔دوسری جانب امریکا کی جانب سے ایرانی الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں جاری رابطے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔