اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل سے فوری طور پر ایک دوسرے پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ ایران اور اسرائیل فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکیں اور جنگ بندی کی مکمل پاسداری کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں جاری کشیدگی نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔دوسری جانب چین نے بھی خطے کی تازہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ دشمنی کا دوبارہ آغاز کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے اور تمام متعلقہ ممالک کو تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران اور اسرائیل جنگ بندی برقرار رکھتے ہوئے تنازعات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع اختیار کریں گے۔واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ روز سے کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف متعدد حملے کر چکے ہیں۔ ان حملوں کے باعث خطے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ٹیلیفونک رابطہ بھی کیا تھا اور انہیں کشیدگی بڑھانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ تاہم بعد ازاں اسرائیل کی جانب سے ایران پر میزائل حملے کیے گئے، جس کے جواب میں ایران نے بھی جوابی کارروائیاں شروع کر دیں۔عالمی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال خطے میں وسیع پیمانے پر تصادم کا خطرہ پیدا کر سکتی ہےجبکہ امریکا، چین اور دیگر عالمی طاقتیں جنگ بندی کے قیام اور سفارتی حل کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں فریقوں نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کو مزید سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔بین الاقوامی برادری کی جانب سے مسلسل اپیل کی جا رہی ہے کہ ایران اور اسرائیل فوری طور پر جنگ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔