اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن ’’بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص‘‘ کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے، جو وسیع تر تنازع کے اُس مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے جسے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے ’’معرکۂ حق‘‘ کا نام دیا تھا۔ یہ مہم بائیس اپریل سے دس مئی دو ہزار پچیس تک جاری رہی اور جنوبی ایشیا کی سکیورٹی صورتحال میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔
اس کشیدگی کا آغاز پہلگام کے بائسران ویلی میں ایک مہلک واقعے سے ہوا، جہاں ایک حملے میں چھبیس افراد ہلاک ہوئے۔ واقعے کے فوراً بعد بھارتی حکام نے بغیر باضابطہ تحقیقات کے پاکستان پر الزام عائد کیا، جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کر دیا۔ متعدد تجزیہ کاروں نے اس واقعے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے اسے ایک منصوبہ بند کارروائی بھی کہا، جبکہ عالمی سطح پر سکیورٹی خامیوں پر سوالات اٹھے۔
بیانیے کی جنگ اور عوامی ردعمل
بھارت کے اندر اس واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا، جہاں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو انٹیلی جنس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ دوسری جانب پاکستان نے معلوماتی محاذ پر بھرپور حکمت عملی اپنائی اور مبینہ غلط معلوماتی مہم کا مقابلہ کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق نوجوانوں نے ’’سائبر اور انفارمیشن وارئیرز‘‘ کے طور پر نمایاں کردار ادا کیا۔
فضائی محاذ اور عسکری جھڑپیں
کشیدگی کے ابتدائی مرحلے میں فضائی جھڑپیں دیکھنے میں آئیں، جہاں پاکستان ایئر فورس اور بھارتی فضائیہ کے درمیان مقابلہ ہوا۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارت کے کئی جنگی طیارے گرائے گئے، جن میں جدید رافیل طیارے بھی شامل تھے۔ ان جھڑپوں کو جدید جنگی حکمت عملی اور تکنیکی برتری کی مثال قرار دیا گیا۔
آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کا آغاز
چھ اور سات مئی کی درمیانی شب بھارتی کارروائیوں کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہوئی، جس کے جواب میں دس مئی کو پاکستان نے بھرپور ردعمل دیتے ہوئے یہ آپریشن شروع کیا۔ یہ کارروائی عاصم منیر کی قیادت میں کی گئی، جسے ایک محدود مگر فیصلہ کن اقدام قرار دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ ایک مشترکہ عسکری کارروائی تھی، جس میں بری، بحری، فضائی اور سائبر صلاحیتوں کو یکجا استعمال کیا گیا۔ اس دوران مختلف مقامات پر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ کارروائیوں کو صرف عسکری اہداف تک محدود رکھنے کا دعویٰ کیا گیا۔
جدید ٹیکنالوجی اور کثیر محاذی حکمت عملی
آپریشن میں جدید ہتھیاروں، ڈرونز اور سائبر صلاحیتوں کا استعمال نمایاں رہا۔ حکام کے مطابق مربوط حملوں اور جدید نظام کے ذریعے دشمن کے مواصلاتی ڈھانچے کو متاثر کیا گیا۔ اسی دوران مغربی سرحدی علاقوں میں بھی سکیورٹی فورسز نے کارروائیاں جاری رکھیں۔
قومی یکجہتی کی مثال
اس پورے مرحلے کے دوران ملک میں غیر معمولی قومی یکجہتی دیکھنے میں آئی، جہاں سیاسی قیادت، عوام اور ادارے ایک صف میں کھڑے نظر آئے۔ ماہرین کے مطابق یہ آپریشن نہ صرف عسکری حکمت عملی بلکہ سفارتی اور معلوماتی میدان میں بھی ایک جامع مثال کے طور پر سامنے آیا۔
ایک سال گزرنے کے باوجود پاکستانی حکام اسے مؤثر قیادت، مربوط حکمت عملی اور قومی اتحاد کی علامت قرار دیتے ہیں، جو مستقبل کے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک اہم حوالہ بن چکا ہے۔