اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے علاقے گریٹر ٹورنٹو ایریا میں پولیس نے ایک منظم دھوکا دہی کے نیٹ ورک کا سراغ لگایا ہے جس میں جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت اور اسمارٹ عینکوں کا استعمال کیا گیا۔ حکام کے مطابق کم از کم سات افراد پر مشتمل یہ گروہ ستمبر 2025 سے فروری 2026 کے دوران مختلف دکانوں کو نشانہ بناتا رہا۔
پولیس تحقیقات کے مطابق ملزمان نے نہایت منظم طریقے سے دکانوں کے عملے کو باتوں میں الجھا کر ان کے لاگ اِن معلومات اور خفیہ الفاظ حاصل کیے۔ اس مقصد کیلئے جدید ڈیجیٹل آلات استعمال کیے گئے، جن کے ذریعے حساس معلومات خفیہ طور پر ریکارڈ کی جاتی تھیں۔
حاصل کی گئی معلومات کو بعد ازاں دکانوں کے نظام تک رسائی حاصل کرنے کیلئے استعمال کیا گیا، جہاں ملزمان خودکار ادائیگی مشینوں کے ذریعے جعلی طریقے سے تحفہ کارڈز میں رقم منتقل کرتے تھے۔ پولیس کے مطابق اس سرگرمی کے نتیجے میں متعدد دکانوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ اس اسکیم سے جڑے ایک سو بارہ واقعات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
پولیس نے اس کیس میں پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں لارڈ جیفری جیلرا، رونالڈ ہیریرا رئیس، پال ہیرون پاجے، ونس ولا لوز اور نکسل گامایون شامل ہیں۔ ان تمام افراد پر پانچ ہزار ڈالر سے زائد دھوکا دہی، جرائم سے حاصل شدہ املاک رکھنے اور کمپیوٹر نظام کو جرم کیلئے استعمال کرنے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق مزید دو مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے، جن میں ڈینیبروس فلورس شامل ہے جس کے خلاف ملک گیر وارنٹ جاری کیا گیا ہے، جبکہ ریمفرانس جوسی بھی مطلوب ہے۔
تحقیقات کرنے والے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس کیس میں مزید متاثرین بھی ہو سکتے ہیں، لہٰذا عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کسی کے پاس اس حوالے سے معلومات ہوں تو فوری طور پر پولیس سے رابطہ کریں۔