اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی چیف پبلک ہیلتھ آفیسر نے کہا ہے کہ ملک میں ہنٹا وائرس سے متاثرہ ایم وی ہونڈیئس کروز شپ سے وابستہ ممکنہ بالواسطہ رابطوں کی نگرانی کے لیے “احتیاطی طریقہ کار” اپنایا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر جوس رائمر کے مطابق صوبائی اور علاقائی صحت کے اداروں نے ملک بھر میں 26 افراد کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہنٹا وائرس کی علامات پر نظر رکھیں، اگرچہ انہیں “کم خطرے والے” افراد قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ یہ تمام افراد وہ مسافر ہیں جنہوں نے ایسے لوگوں کے ساتھ فضائی سفر کیا جو بعد میں ہنٹا وائرس سے متاثر پائے گئے، تاہم ان کے بارے میں خیال ہے کہ ان کا متاثرہ افراد کے ساتھ قریبی رابطہ نہیں ہوا اور نہ ہی وہ ان کے قریب بیٹھے تھے۔
یورپی صحت حکام نے ان افراد کو “خطرے سے پاک” قرار دیا تھا، لیکن کینیڈین حکام نے انہیں مکمل محفوظ کے بجائے “کم یا معمولی خطرے” کی کیٹیگری میں رکھا ہے۔
ہنٹا وائرس کی کئی اقسام دنیا میں موجود ہیں، لیکن اس کروز شپ میں وائرس کی اینڈیز قسم سامنے آئی ہے، جو بہت کم مواقع پر انسان سے انسان میں منتقل ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر رائمر نے کہا کہ مجموعی طور پر کینیڈا میں عام آبادی کے لیے خطرہ اب بھی کم ہے، تاہم بیماری کی شدت کے باعث احتیاطی اقدامات ضروری ہیں۔
صحت حکام نے واضح کیا ہے کہ کم خطرے والے افراد کو لازمی طور پر قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت نہیں دی گئی، لیکن صوبائی ادارے اپنی سطح پر مزید جانچ کر سکتے ہیں۔
اب تک کینیڈا میں نو افراد کو زیادہ خطرے والا قرار دیا گیا ہے اور انہیں البرٹا، برٹش کولمبیا اور اونٹاریو میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ ان میں کچھ وہ افراد شامل ہیں جو کروز شپ پر موجود تھے، جبکہ کچھ وہ ہیں جن کا فضائی سفر کے دوران متاثرہ افراد سے قریبی رابطہ ہو سکتا ہے۔
البرٹا کی وزیر صحت ایڈرینا لیگرانج نے کہا ہے کہ صوبے میں خطرہ نہایت کم ہے اور کسی بھی شہری کو تشویش کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ دو افراد جو ممکنہ طور پر متاثرہ افراد کے قریب آئے تھے، گھر پر قرنطینہ میں ہیں اور ان میں ابھی تک کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔
ڈاکٹر رائمر کے مطابق اب تک کسی بھی شخص میں ہنٹا وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں، اور اس وائرس کی علامات ظاہر ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس عام حالات میں آسانی سے انسان سے انسان میں منتقل نہیں ہوتا اور زیادہ تر پھیلاؤ قریبی اور طویل رابطے سے ہوتا ہے، جیسے کروز شپ کے بند ماحول میں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس کروز سے منسلک دنیا بھر میں گیارہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں تین اموات بھی شامل ہیں، جبکہ آٹھ کیسز لیبارٹری میں تصدیق شدہ ہیں۔