اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)صوبہ کیوبیک کے انگریزی زبان کے اسکول بورڈز نے خبردار کیا ہے کہ اگر بل ایک سو ایک کو فنی اور بالغوں کی تعلیم تک توسیع دی گئی تو صوبے میں انگریزی تعلیم کا نظام شدید متاثر ہو سکتا ہے، جبکہ بعض اداروں کو اپنے ستر فیصد تک طلبہ سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب کیوبیک کے فرانسیسی زبان کے وزیر ژاں فرانسوا روبیج نے رواں ماہ اعلان کیا کہ حکومت ان تعلیمی پروگراموں پر بھی فرانسیسی زبان کی پابندیاں نافذ کرنا چاہتی ہے جو اب تک بل ایک سو ایک سے مستثنیٰ تھے۔
صوبائی اسمبلی میں بجٹ مباحثے کے دوران روبیج نے کہا کہ موجودہ نظام کے باعث ہزاروں ایسے طلبہ انگریزی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جنہیں کیوبیک کے قوانین کے تحت انگریزی پرائمری یا ثانوی تعلیم کا حق حاصل نہیں۔ ان کے مطابق بالغوں کی عمومی تعلیم اور فنی تربیت کے شعبے میں اس حوالے سے کوئی واضح پابندیاں موجود نہیں، جسے تبدیل کرنا ضروری ہے۔
روبیج کے مطابق اس وقت تقریباً ستائیس ہزار طلبہ انگریزی زبان کے فنی اور بالغوں کے تعلیمی پروگراموں میں زیر تعلیم ہیں، اور مجوزہ قانون نافذ ہونے کی صورت میں انہیں فرانسیسی نظام تعلیم میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔
فی الحال بل ایک سو ایک کا اطلاق فنی تربیت یا بالغوں کی تعلیم پر نہیں ہوتا۔
کیوبیک انگلش اسکول بورڈز ایسوسی ایشن کے نائب صدر کرسٹوفر کریگ نے کہا کہ اگر بل کی توسیع ہوئی تو انگریزی فنی پروگراموں میں طلبہ کی تعداد ستر فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ طلبہ آسانی سے فرانسیسی نظام میں منتقل ہو جائیں گے، جبکہ حقیقت میں بہت سے نوجوان تعلیم ہی چھوڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فنی تعلیم حاصل کرنے والے متعدد طلبہ کئی زبانیں بولتے ہیں اور وہ انگریزی پروگراموں کو ان کے معیار اور آسان رسائی کی وجہ سے ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے صوبے کو تربیت یافتہ تکنیکی ماہرین، مکینک اور تعمیراتی کارکنوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انگلش مونٹریال اسکول بورڈ کے چیئرمین جو اورٹونا نے کہا کہ ان کے ادارے میں تقریباً پچھتر فیصد فنی طلبہ اس قانون سے متاثر ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ان طلبہ میں بڑی تعداد ایسے تارکین وطن کی ہے جو فرانسیسی زبان کے کورسز میں داخلے کے منتظر ہوتے ہیں اور جلد از جلد روزگار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر انگریزی فنی تعلیم تک رسائی محدود کی گئی تو انتظار کی مدت بڑھے گی اور افرادی قوت کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔
اسکول بورڈز نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ آیا فرانسیسی نظام تعلیم اتنی بڑی تعداد میں نئے طلبہ کو سنبھالنے کیلئے تیار ہے یا نہیں۔ جو اورٹونا کے مطابق فرانسیسی اداروں کے پاس نہ اتنے اساتذہ ہیں اور نہ ہی اضافی کلاسوں کی تیاری مکمل ہے، اس لئے یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ ستائیس ہزار طلبہ باآسانی فرانسیسی نظام میں منتقل ہو جائیں گے۔