اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر حملہ ناقابل قبول ہے اور امریکہ اس کا مناسب جواب دے گا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے گزشتہ روز ایک تجارتی جہاز کو چار مرتبہ نشانہ بنانے کی کوشش کی، جن میں سے تین حملے ناکام بنا دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایران کا یہ اقدام پسند نہیں آیا اور امریکہ کے ردعمل کے بارے میں دنیا کو جلد معلوم ہو جائے گا، تاہم انہوں نے کسی ممکنہ کارروائی کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔
اس کے کچھ ہی دیر بعد امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا کہ اس کی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے مختلف فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں ایرانی میزائل اور ڈرون ذخائر کے علاوہ ساحلی ریڈار تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ یہ حملے 25 جون کو سنگاپور کے ایک تجارتی جہاز پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کیے گئے، جسے امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملے کو ناکام بنا دیا گیا اور اس کے اثرات کو محدود کر دیا گیا۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سیریک جزیرے کے قریب امریکی کارروائی کا مؤثر جواب دیا گیا اور اس جارحیت کو بلا جواب نہیں چھوڑا جائے گا۔
بعد ازاں پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم اہداف، حملے کی نوعیت یا نقصانات سے متعلق کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی یا خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش کی تو امریکہ بھرپور جواب دے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ایکس” پر جاری اپنے بیان میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران نے جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور امریکہ نے اس کی مکمل پاسداری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران کو معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق کوئی اعتراض ہے تو وہ سفارتی ذرائع سے رابطہ کر سکتا ہے، لیکن کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب سختی سے دیا جائے گا۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف حالیہ امریکی فضائی کارروائیاں خلیج میں ایک تجارتی جہاز پر ڈرون حملے کے ردعمل میں کی گئی ہیں، جس کا الزام واشنگٹن نے تہران پر عائد کیا ہے۔
ادھر ایران نے بھی واضح کیا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب اپنی مرضی کے وقت، مقام اور طریقہ کار کے مطابق دیا جائے گا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔