اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے فوری طور پر اپنے کنٹرول میں لیا جا سکتا ہے۔
ایک معروف صحافی شیریل ایٹکسن کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کے جوہری مواد کی ہر نقل و حرکت سے باخبر ہے اور اگر کسی نے اسے منتقل کرنے کی کوشش کی تو اسے فوری طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو عسکری میدان میں شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے، تاہم ان کے مطابق ایران کے خلاف تمام عسکری اقدامات ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی قیادت کی مختلف سطحوں کو بڑے پیمانے پر کمزور کیا گیا ہے اور بعض عسکری ڈھانچے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
امریکی صدر نے ایران کے جوہری عزائم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ ان کے بقول ایران اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کرتا اور معاہدوں کی پاسداری نہیں کرتا۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو براہِ راست اس راستے کی ضرورت نہیں، تاہم وہ اپنے علاقائی اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے اس خطے میں موجود ہے۔
قبل ازیں، صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایران کی جانب سے مبینہ امریکی تجویز کے جواب پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ جواب غیر تسلی بخش اور مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر غور جاری رہے گا۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق ایران کا جواب ایک ثالث کے ذریعے، جس میں پاکستان کا کردار بتایا گیا ہے، واشنگٹن تک پہنچایا گیا۔ یہ پیش رفت خطے میں جاری کشیدگی اور سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دی جا رہی ہے۔