دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنا ہونگے،مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

اردو ورلڈکینیڈا ( ویب نیوز )  ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ دہشت گردوں سے بات چیت کا کوئی راستہ موجود نہیں، انہیں ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہوں گے، بصورت دیگر ان کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردوں کو واضح پیغام دیا جا چکا ہے کہ ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد یا تو قانون کے مطابق ہتھیار ڈال دیں یا پھر سیکیورٹی فورسز ان کے خلاف لڑیں گی۔

بلوچستان کے حالات سے متعلق تاثر کو مسترد کرنے کا دعویٰ

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ بعض عناصر کی جانب سے جان بوجھ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بلوچستان کے حالات خراب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں بدامنی پھیلانے میں مخصوص عناصر ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دشمن کی حکمت عملی ناکام ہونے کے بعد بلوچستان پر توجہ مرکوز کی گئی، تاہم ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

لاپتا افراد کے معاملے پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا مؤقف

ڈی جی آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ بعض لاپتا افراد مستونگ، خضدار اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث پائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف آپریشنز کے دوران ہلاک ہونے والے بعض حملہ آوروں کا تعلق ان افراد سے نکلا جنہیں لاپتا افراد کی فہرستوں میں شامل کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں :

پاکستان خطے میں علاقائی استحکام کا کردار ادا کرتا رہے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر

انہوں نے کہا کہ لاپتا افراد کے حوالے سے مختلف اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں اور بعض اوقات یہ تعداد 10 ہزار یا 20 ہزار تک بتائی جاتی ہے، تاہم ان کے مطابق یہ بیانیہ حقائق پر مبنی نہیں۔

گزشتہ پانچ سال میں 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملک بھر میں انسداد دہشت گردی کے لیے مجموعی طور پر 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے گئے۔

ان کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 2 ہزار 84 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں 31 ہزار 80، خیبرپختونخوا میں 7 ہزار 177 جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں 2 ہزار 91 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔

بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کا ذکر

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کے دوران 178 افراد شہید ہوئے، 55 اغوا کے واقعات پیش آئے جبکہ 24 پل تباہ کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں پولیس اور لیویز کے خلاف بھی 105 واقعات رپورٹ ہوئے۔

رواں سال شہادتوں کے اعداد و شمار

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ رواں سال اب تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے 303 جوان اور 322 شہری شہید ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :

12 بھارتی ڈرونز کو ناکارہ کر دیا ،ایک شہری شہید،چار جوان زخمی ہوئے، ڈی جی آئی ایس پی آر

انہوں نے بتایا کہ 2026 میں دھماکوں کے 28 واقعات ہوئے، جن میں ان کے بقول زیادہ تر افغان شہری ملوث تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹانک اور کراچی میں پیش آنے والے بعض واقعات میں بھی افغان باشندوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے۔

افغان طالبان حکومت پر الزام

ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغان طالبان حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں موجود عناصر دہشت گردی کو ایک کاروبار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں