اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) عام طور پر بازاروں میں آم چند سو روپے فی کلو کے حساب سے دستیاب ہوتے ہیں، لیکن دنیا میں آم کی ایک ایسی نایاب قسم بھی موجود ہے جس کی قیمت سن کر لوگ حیران رہ جاتے ہیں۔
جاپانی نسل کا میازاکی آم اپنی منفرد خصوصیات، خوبصورتی اور نایاب ہونے کی وجہ سے دنیا کے مہنگے ترین آموں میں شمار کیا جاتا ہے۔
میازاکی آم لاکھوں روپے میں فروخت
بھارت کے ایک کاشتکار سندیپ چوہدری نے اپنی فصل میں تیار ہونے والے میازاکی آم کو 2 لاکھ 11 ہزار بھارتی روپے فی کلو میں فروخت کیا، جو پاکستانی کرنسی کے مطابق تقریباً 6 لاکھ 12 ہزار روپے بنتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک کلو وزن میں صرف چار آم شامل تھے، جس کا مطلب ہے کہ ایک آم کی قیمت بھی انتہائی زیادہ رہی۔ اس غیرمعمولی قیمت نے اس نایاب آم کو ایک بار پھر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
تاجر نے خصوصی دلچسپی کے بعد خریداری کی
کاشتکار سندیپ چوہدری کے مطابق میازاکی آم سورت کے معروف تاجر پروین گپتا نے خریدے۔ ان کا کہنا تھا کہ خریدار گزشتہ سال سے ان کے ساتھ رابطے میں تھے اور اس منفرد قسم کے آم کو حاصل کرنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں :
دنیا کے مشہور شہر کا حیران کن اصل نام، جو 168 حروف پر مشتمل ہے
کاشتکار نے اس فروخت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی نایاب پیداوار کسانوں کے لیے ایک خاص کامیابی ہوتی ہے۔
میازاکی آم کی منفرد شناخت
میازاکی آم اپنی خوبصورت سرخی مائل رنگت، منفرد ذائقے اور اعلیٰ معیار کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے۔ جاپان میں اسے "سورج کا انڈہ” (Egg of the Sun) بھی کہا جاتا ہے۔
یہ آم عام اقسام کے مقابلے میں زیادہ نازک اور مخصوص حالات میں تیار کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی پیداوار محدود رہتی ہے اور قیمت بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔
غذائیت سے بھرپور نایاب پھل
ماہرین کے مطابق میازاکی آم میں وٹامن اے، وٹامن سی، بیٹا کیروٹین اور اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار نمایاں ہوتی ہے۔ یہی غذائی خصوصیات اور اس کا منفرد ذائقہ اسے دنیا کے قیمتی ترین پھلوں میں شامل کرتے ہیں۔
دنیا بھر میں بڑھتی مقبولیت
میازاکی آم کی مقبولیت صرف جاپان تک محدود نہیں رہی بلکہ اب اسے مختلف ممالک میں بھی خاص خریدار حاصل ہیں۔ اپنی نایابی، خوبصورتی اور غیرمعمولی قیمت کے باعث یہ آم دنیا کے مہنگے ترین پھلوں کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
مرغی نےروزانہ ایک ہی وقت پر انڈا دینا شروع کر دیا، گاؤں میں گھڑیاں سیٹ ہونے لگیں
ماہرین کے مطابق ایسے نایاب پھل صرف ذائقے کے لیے نہیں بلکہ اپنی منفرد کاشت، محدود دستیابی اور اعلیٰ معیار کی وجہ سے بھی دنیا بھر میں خاص مقام رکھتے ہیں۔