اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایندھن پر عائد ٹیکس عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم صوبہ البرٹا کی حکومت نے فوری طور پر اسی طرز کا اقدام کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنی پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم مارک کارنی، جو حالیہ انتخابات کے بعد اکثریتی حکومت کے سربراہ بنے ہیں، نے اعلان کیا کہ وفاقی سطح پر پٹرول اور ڈیزل پر عائد ٹیکس بیس اپریل سے یومِ محنت تک معطل رہے گا۔ اس فیصلے کا مقصد شہریوں کو بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دباؤ سے کچھ ریلیف دینا ہے۔ اس وقت وفاقی سطح پر پٹرول پر تقریباً دس سینٹ فی لیٹر اور ڈیزل پر چار سینٹ فی لیٹر ٹیکس عائد ہے۔
دوسری جانب، صوبہ البرٹا میں پٹرول پر تیرہ سینٹ فی لیٹر اور ڈیزل پر چار سینٹ فی لیٹر ٹیکس لاگو ہے۔ اگر صوبائی حکومت بھی وفاقی اقدام کی پیروی کرتی تو مجموعی طور پر صارفین کو فی لیٹر تقریباً تئیس سینٹ تک ریلیف مل سکتا تھا۔ تاہم صوبائی وزیر خزانہ نیٹ ہورنر کا کہنا ہے کہ موجودہ غیر یقینی صورتحال کے باعث حکومت کم از کم جولائی تک ٹیکس میں تبدیلی نہیں کرے گی۔
یاد رہے کہ البرٹا حکومت نے دو ہزار تئیس میں ایندھن پر ٹیکس عارضی طور پر معطل کیا تھا جس سے عوام کو نمایاں ریلیف ملا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس اقدام سے شہریوں کو ایک ارب دس کروڑ ڈالر سے زائد کی بچت ہوئی۔ بعد ازاں دو ہزار چوبیس میں ٹیکس دوبارہ بحال کیا گیا اور ایک نیا ریلیف پروگرام متعارف کروایا گیا۔
صوبے میں ایندھن پر ٹیکس کی شرح کا تعین عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کی بنیاد پر سہ ماہی بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔ اگر خام تیل کی قیمت نوّے ڈالر فی بیرل یا اس سے زیادہ ہو جائے تو ٹیکس معطل ہونا چاہیے، جبکہ قیمت میں کمی کی صورت میں جزوی یا مکمل بحالی کی جاتی ہے۔
حال ہی میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خام تیل کی قیمت تیرانوے ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ گزشتہ ہفتے یہ ایک سو بارہ ڈالر تک بھی پہنچ گئی تھی۔
ادھر مختلف سیاسی رہنما بھی ایندھن پر ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حزبِ اختلاف کے رہنما اور دیگر تنظیمیں حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے، کیونکہ مہنگائی کے باعث ایک عام خاندان کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر صوبائی حکومت فوری اقدام کرتی ہے تو اس سے نہ صرف شہریوں کو ریلیف ملے گا بلکہ معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم موجودہ حالات میں حکومت کا محتاط رویہ برقرار ہے، جس کے باعث عوام کو فوری ریلیف کے لیے مزید انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔