اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی اعلیٰ عدالت نے صوبہ کیوبیک کی حکومت کی جانب سے دائر کی گئی اپیل مسترد کرتے ہوئے انتخابی حلقہ بندیوں میں مجوزہ تبدیلیوں کو برقرار رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔
سات کے مقابلے میں دو ججوں کے فیصلے کے تحت گاسپے جزیرہ نما کے دو حلقوں کو ملا کر ایک بنایا جائے گا، جبکہ مونٹریال کے مشرقی حصے کا ایک حلقہ ختم کر دیا جائے گا اور اس کے ووٹرز کو قریبی حلقوں میں تقسیم کیا جائے گا۔
اس فیصلے کے نتیجے میں لورینشینز اور ایسٹری۔سنٹر۔دو۔کیوبیک کے بڑھتے ہوئے علاقوں میں دو نئے انتخابی حلقے قائم کیے جائیں گے، جہاں حالیہ برسوں میں آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
دو ہزار چوبیس میں وزیر اعلیٰ فرانسوا لیگالٹ کی حکومت نے ایک قانون پیش کیا تھا جس کا مقصد آزاد انتخابی حد بندی کمیشن کی تیار کردہ نئی نقشہ بندی کو روکنا تھا۔ اس اقدام کے پیچھے دلیل یہ دی گئی تھی کہ نئی حد بندیاں گاسپے کے علاقوں کی سیاسی اہمیت کم کر دیں گی اور مشرقی کیوبیک کے حلقوں کو حد سے زیادہ وسیع بنا دیں گی۔
بعد ازاں لورینشینز کے علاقائی نمائندوں کی کونسل نے اس قانون کو عدالت میں چیلنج کیا۔ ابتدائی طور پر مقدمہ نچلی عدالت میں خارج کر دیا گیا، تاہم اپیل عدالت نے اسے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا، جسے اب اعلیٰ عدالت نے بھی برقرار رکھا ہے۔
کونسل کے صدر زاویے انتوان لالاندے نے اس فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی ان افراد کی کوششوں کا نتیجہ ہے جو حکومت کی جانب سے انتخابی کمیشن کی خودمختاری کو نظر انداز کیے جانے پر شدید تشویش رکھتے تھے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ یہ تھا کہ حکومت تیزی سے بڑھنے والے علاقوں کو مناسب سیاسی نمائندگی دینے میں ناکام رہی۔
کیوبیک کے انتخابی قوانین کے مطابق ہر دو انتخابات کے بعد حلقہ بندیوں کا ازسر نو جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے تاکہ آبادی میں تبدیلی کے مطابق ہر حلقے میں ووٹرز کی تعداد تقریباً برابر رکھی جا سکے۔
دوسری جانب صوبائی قیادت نے عندیہ دیا ہے کہ جمہوری اداروں کے وزیر حزب اختلاف کے ساتھ مل کر ایک نیا مسودہ قانون پیش کریں گے، جس کا مقصد ختم کیے جانے والے حلقوں کو تحفظ فراہم کرنا اور تمام علاقوں کی منصفانہ نمائندگی یقینی بنانا ہوگا۔ اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ ہر خطے کی آواز کو صوبائی اسمبلی میں مؤثر طور پر شامل کرنا انتہائی ضروری ہے۔