اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران کے سابق رہبرِ اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای شہید کی سات روزہ آخری رسومات کا آغاز ان کی رحلت کے 125 دن بعد ہو گیا ۔
علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کے تابوت جمعہ کے روز تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلی میں رکھ دئیے گئے جہاںجسدِ خاکی کا دیدار کرایا جا رہا ہے، رقت آمیز مناظر دیکھے جا رہے ہیں، اس موقع پر دارالحکومت تہران سکیورٹی قلعہ بن گیا، سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں،حکام نے شہر کے اہم علاقوں میں اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کر دئیے جبکہ مختلف پابندیاں بھی نافذ کر دی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیارپورٹس کے مطابق سات روزہ پروگرام کا آغاز جمعہ کو تہران سے ہو گیا جہاں دنیا بھر کے رہنما، اعلی سرکاری شخصیات، مذہبی رہنما اور علما تعزیت پیش کریں گے۔ آج 4 اور کل5 جولائی کو تہران میں عوامی جنازے کی تقریبات منعقد ہوں گی، نماز جنازہ گرینڈ مسلہ کمپلیکس میں ادا کی جائے گی۔شہید سپریم لیڈر کے جسد خاکی کو نماز جنازہ کے بعد قم، نجف اور کربلا لیکر جایا جائے گا اور پھر میت واپس ایران لا کر آیت اللہ علی خامنہ ای کو مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
آخری رسومات میں کم از کم دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے ۔ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے کئی اہلِ خانہ کے تابوت مصلی الکبیر میں عوام کے آخری دیدار کے لئے رکھے گئے ہیں۔ جہاں رقت آمیز مناظر دیکھے جا رہے ہیں۔ یہ جنازہ ان کے جانشین اور بیٹے مجتبی خامنہ ای کے دورِ قیادت کی پہلی بڑی سرکاری تقریب بھی ہوگی، مجتبی خامنہ ای گزشتہ چار ماہ سے، جب سے امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہوئی، عوامی منظرنامے سے غائب رہے ہیں۔ اس موقع پر دارالحکومت تہران میں تعزیتی تقریبات کے سلسلے میں غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں، مصلی الکبیر اور دیگر اہم مقامات پر سکیورٹی کے سخت انتظامات نافذ ہیں جبکہ لاکھوں افراد کی شرکت کے پیش نظر متعلقہ ادارے مسلسل تیاریاں کر رہے ہیں، آخری رسومات میں کم از کم دو کروڑ افراد کی شرکت کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی وفات نے امتِ مسلمہ کو گہرے صدمے سے دوچار کیا ہے، یہ سرخ سفر کا اختتام نہیں بلکہ اتحاد، استقامت اور ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم ہر آزمائش کے بعد پہلے سے زیادہ متحد، مضبوط اور پرامید ہو کر ابھرتی ہے اور عوام سے اپیل کی کہ وہ آخری رسومات میں بھرپور شرکت کر کے قومی یکجہتی کا عملی مظاہرہ کریں۔تہران کے انقلاب چوک میں آیت اللہ علی خامنہ ای سے منسوب علامتی مٹھی بھی نصب کر دی گئی ہے جو آخری رسومات کی تیاریوں کا حصہ ہے جبکہ ملک بھر میں سوگ کی فضا نمایاں ہے۔ادھر ایران کی خاتم الانبیا بریگیڈ نے امریکہ اور اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران حملہ کرنے سے پہلے دو بار سوچیں، جواب بہت سخت ہوگا۔86 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو جنگ کے پہلے دن اپنے رہائشی کمپانڈ پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں اپنے کئی اہلِ خانہ کے ساتھ شہید ہو گئے۔آیت اللہ علی خامنہ ای نے 1989 میں ایران کی قیادت سنبھالی، جب آیت اللہ خمینی کا انتقال ہوا، آیت اللہ خمینی نے ایک دہائی قبل اسلامی انقلاب کی قیادت کی تھی جس نے پہلوی بادشاہت کا خاتمہ کیا، اور وہ ایران کے پہلے سپریم لیڈر بنے تھے۔جہاں آیت اللہ خمینی انقلاب کے نظریاتی معمار تھے، وہیں آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایران کے فوجی اور نیم فوجی اداروں کو مضبوط اور منظم کیا۔ان کی تدفین ابتدا میں مارچ میں ہونا تھی، لیکن امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ طویل ہونے کے باعث اسے موخر کر دیا گیا تھا ۔