اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کیوبیک حکومت کے انجینئرز آج رات بارہ بجے سے ایک روزہ ہڑتال شروع کریں گے، تاہم انجینئرز کی یونین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ابتدا ہے اور آنے والے ہفتوں میں جون تک احتجاج میں مزید شدت آ سکتی ہے۔
کیوبیک حکومت کے پروفیشنل انجینئرز کی تنظیم میں تقریباً ایک ہزار نو سو ارکان شامل ہیں، جو زیادہ تر ٹرانسپورٹ کی وزارت میں کام کرتے ہیں، جبکہ کچھ انجینئرز ماحولیاتی امور، بلدیاتی معاملات، قدرتی وسائل اور سائبر سیکیورٹی کے محکموں میں بھی خدمات انجام دیتے ہیں۔
یونین کے صدر مارک آندرے مارٹن نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، اور اسی وجہ سے دباؤ بڑھانے کے لیے ہڑتال کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت بنیادی ڈھانچے کے منصوبے تیاری اور آغاز کے مرحلے میں ہیں، جو اس احتجاج کو مزید اہم بنا دیتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے محکمے میں یہ وقت منصوبوں کے آغاز کے لیے نہایت اہم ہوتا ہے، اور یونین اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے تاکہ اپنے مطالبات منوائے جا سکیں۔
تنازع کی بنیادی وجہ انجینئرز کے لیے مخصوص بجٹ کا معاملہ ہے، جس کے تحت حکومت کچھ ترجیحی گروہوں کے لیے اضافی مالی وسائل مختص کرنا چاہتی ہے۔ یونین کا مؤقف ہے کہ یہ نظام غیر منصفانہ ہے، جبکہ حکومت پہلے ہی پانچ سال میں تنخواہوں میں سترہ اعشاریہ چار فیصد اضافے کی منظوری دے چکی ہے۔