اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو اختیار کے خلاف دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس کے خاتمے یا کم از کم سخت پابندیوں کا مطالبہ کر دیا ہے۔
نیویارک میں ہونے والے بین الحکومتی مذاکرات کے تیسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سلامتی کونسل میں بار بار پیدا ہونے والا تعطل مستقل اراکین کی جانب سے ویٹو کے ناجائز استعمال کا نتیجہ ہے، جو عالمی امن اور سلامتی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ویٹو اختیار موجودہ دور کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا اور ایک فرسودہ نظام کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے میں نئے مستقل اراکین کو ویٹو دینے کی تجاویز خود ایک تضاد کا شکار ہیں۔عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل صاف ہے: یا تو ویٹو اختیار کو مکمل طور پر ختم کیا جائے یا اس کے استعمال کو سختی سے محدود کر دیا جائے تاکہ عالمی فیصلوں میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل میں کسی بھی نئے مستقل رکن کے اضافے یا ویٹو کے دائرہ کار میں توسیع کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ اس سے عالمی مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔پاکستانی مندوب نے ویٹو کے استعمال میں شفافیت اور جوابدہی بڑھانے پر بھی زور دیا اور تجویز دی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو اس حوالے سے زیادہ مؤثر کردار دیا جائے۔
پاکستان کی جانب سے یہ بھی تجویز پیش کی گئی کہ سلامتی کونسل میں مستقل اراکین کے بجائے منتخب (غیر مستقل) اراکین کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ طاقت کا توازن بہتر بنایا جا سکے اور ویٹو کے استعمال کی سیاسی قیمت بڑھائی جا سکے۔ان کے مطابق اگر کونسل میں اراکین کی تعداد زیادہ ہوگی تو کسی بھی قرارداد کو ویٹو کرنا آسان نہیں رہے گا کیونکہ اس کے لیے وسیع سطح پر مخالفت درکار ہوگی۔آخر میں پاکستان نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کی اصلاحات کو ایک جامع پیکج کے طور پر دیکھا جائے، اور اگر حقیقی تبدیلی مقصود ہے تو کسی بھی ملک کو خصوصی مراعات نہیں دی جانی چاہئیں۔