اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی درحقیقت 7 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد ہی ختم ہوگئی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اپریل کے اوائل میں طے پانے والی جنگ بندی نے عملی طور پر جنگ کا خاتمہ کر دیا، اور اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کی براہ راست فوجی جھڑپ رپورٹ نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی ختم کر کے دوبارہ حملوں کی دھمکی دیدی
یہ مؤقف اس وقت مزید واضح ہوا جب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے 30 اپریل کو سینیٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی نے مؤثر انداز میں لڑائی کو روک دیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ انتظامیہ نے اب تک 1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت 60 دن سے زائد فوجی کارروائی نہیں کی، جس کی صورت میں کانگریس سے باضابطہ منظوری درکار ہوتی۔
انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی اس کشیدگی کا عملی خاتمہ ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق 7 اپریل سے شروع ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد سے امریکی افواج اور ایران کے درمیان فائرنگ کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی انتظامیہ کا یہ مؤقف قانونی اور سیاسی دونوں حوالوں سے اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وسیع پیمانے پر جنگی کارروائی کی نوبت نہیں آئی اور نہ ہی کانگریس کی منظوری درکار ہوئی۔