اردوورلڈ کینیڈا( ویب نیوز)وفاقی وزیر قانون نذیر تارڑ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ نشستیں سنی اتحاد کونسل کے پاس چلی جانی چاہیے تھیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کا مطالعہ کریں گے۔ کسی مرحلے پر لکھا تھا کہ ان کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے سینیٹ کے ارکان کے 2018 کے سامنے آج بھی آزاد لکھا جاتا ہے، پی ٹی آئی کیس میں فریق نہیں تھی، مختصر فیصلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سنی اتحاد کونسل ریلیف لینے آئی تھی، ان کی درخواست تھی ۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جو جماعت غیر مسلموں کو اپنا ممبر نہیں مانتی وہ اپنی نشستیں کیسے سنبھالے گی، لگتا ہے آرٹیکل 51 اور 106 کی تشریح کرنے کے بجائے انہیں دوبارہ لکھا گیا، تشریح کرنا عدالت کا اختیار ہے ، آرٹیکل 51 اور 106 کی تشریح کے بجائے نئی باتیں لکھی گئی ہیں، ہمیں عدالت کے حکم پر سر تسلیم خم کرنے کا درس دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے ریلیف مانگا گیا لیکن وہ پی ٹی آئی کو دیا گیا، پی ٹی آئی کے آزاد ارکان نے جیتنے کے بعد کسی فورم سے رابطہ نہیں کیا اس فیصلے نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اچھے فیصلے وہ ہوتے ہیں جن پر بات نہ کی جائے، اس فیصلے پر بحث ہوتی رہے گی، لوگ اپنی رائے دیتے رہے ہیں، آئین اور قانون کے مطابق رائے اور تنقید ہمارا حق ہے اور کرتے رہیں گے۔
127