اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) نے ایران کے ساتھ جاری کشیدہ صورتحال اور ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کے حوالے سے ایک اہم بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اندرونی طور پر شدید دباؤ اور بحران کا شکار ہے۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر جاری بیان میں کہا کہ ایران نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ملک اندر سے "ٹوٹ پھوٹ” کا شکار ہو رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایرانی حکام نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جائے تاکہ وہ اپنی قیادت سے متعلق صورتحال پر قابو پا سکیں۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے پاس اب بھی اس بحران سے نکلنے کی صلاحیت موجود ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی حکام نے ان سے رابطہ کیا، یہ رابطہ کب اور کہاں ہوا، اور نہ ہی انہوں نے آئندہ امریکی حکمت عملی کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم کی۔
دوسری جانب ایرانی حکومت یا کسی اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے اس بیان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح کسی بین الاقوامی ذریعے نے بھی امریکی صدر کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی ہے، جس کے باعث صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ خطے میں ایک بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم فی الحال اس بیان کو محتاط انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے، اور آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کی بندش یا کھلنے کا معاملہ عالمی معیشت اور تیل کی ترسیل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔