اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) تیل کی عالمی منڈی پر اثرات متوقعابوظبی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ یکم مئی 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔ اماراتی خبر ایجنسی کے مطابق، حکام نے کہا ہے کہ یو اے ای تیل کی فروخت کی پالیسی میں خود مختاری حاصل کرے گا۔اوپیک کا قیام 1960 میں سعودی عرب، ایران، عراق اور کویت کے اہم رکن ممالک کے ساتھ ہوا تھا، جب کہ اوپیک پلس 2016 میں تشکیل پایا، جس میں روس سمیت دیگر نان اوپیک ممالک بھی شامل ہیں۔ دونوں تنظیمیں عالمی تیل کی پیداوار اور قیمتوں کا تعین کرتی ہیں اور عالمی تیل کی پیداوار کا تقریباً 40 سے 50 فیصد ان کے کنٹرول میں ہے۔
یو اے ای کی علیحدگی کا اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب عالمی تیل منڈی پہلے ہی غیر مستحکم ہے۔ ایران کی جنگ اپنے نویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر چکی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یو اے ای کی علیحدگی کا فیصلہ اچانک نہیں آیا۔ اس کا براہ راست تعلق پیداوار کی حد پر سعودی عرب کے ساتھ بڑھتے ہوئے اختلافات سے ہے۔ اوپیک پلس معاہدے کے تحت، یو اے ای کی تیل پیداوار تقریباً 30 لاکھ بیرل یومیہ تک محدود تھی، حالانکہ اس کی اصل صلاحیت 40 لاکھ بیرل یومیہ سے زیادہ ہے۔ یو اے ای نے 2027 تک اپنی پیداوار 50 لاکھ بیرل یومیہ تک بڑھانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق، یو اے ای کے اس فیصلے کا قلیل مدت میں عالمی تیل مارکیٹ پر اتنا بڑا اثر نہیں پڑے گا کیونکہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے بحران کی وجہ سے بہت سی تیل کی پیداوار پہلے ہی رک چکی ہے۔ تاہم طویل مدت میں اس علیحدگی کے اثرات اہم ہو سکتے ہیں۔یہ فیصلہ یو اے ای کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے کیونکہ اس سے قبل قطر، ایکواڈور، انڈونیشیا اور انگولا جیسے ممالک بھی اوپیک سے نکل چکے ہیں، لیکن یو اے ای جیسے بڑے اور بانی رکن کا علیحدہ ہونا عالمی سطح پر ایک بڑا پیغام ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یو اے ای کا یہ اقدام عالمی تیل منڈی کی شکل و صورت کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں اور تیل کی سپلائی کی صورتحال غیر یقینی ہے۔