اردووورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا پیر سے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں کو نکالنے کے لیے ایک بڑا عملی مشن شروع کرے گا، جسے انہوں نے “پروجیکٹ فریڈم” کا نام دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اس اقدام کا مقصد انسانی ہمدردی کے تحت سمندری راستوں میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں اور ان کے عملے کو محفوظ طریقے سے نکالنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آبنائے میں کئی جہازوں پر خوراک اور بنیادی ضروریات کی شدید کمی پیدا ہو چکی ہے، جس سے عملے کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس مشن میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا کی گئی تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ امریکی نمائندے متعلقہ فریقین کو واضح طور پر آگاہ کریں گے کہ نیوٹرل ممالک کے جہازوں اور عملے کو محفوظ نکالنا ان کی ترجیح ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی جاری ہے اور بحری آمد و رفت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس صورتحال کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور تجارت پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق کشیدگی کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ امریکا میں پیٹرول کی قیمت بھی بڑھ کر فی گیلن چار اعشاریہ چوالیس ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو پہلے تین ڈالر سے بھی کم تھی۔ اس اضافہ نے مہنگائی اور عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
خطے میں تین ہفتوں سے جاری غیر یقینی جنگ بندی کے باوجود صورتحال کشیدہ ہے، جبکہ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان سمندری راستوں اور جہاز رانی کے قوانین پر اختلافات مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔