اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایک نئی ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر روزانہ کھانے اور اسنیکس کو صرف آٹھ سے نو گھنٹے کے محدود دورانیے میں کھایا جائے اور سونے سے کم از کم چار گھنٹے پہلے کھانا چھوڑ دیا جائے تو بڑھاپے میں دماغی صلاحیتوں میں کمی اور ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ محدود وقت میں کھانا کھانے کی عادت نہ صرف جسمانی صحت بلکہ دماغی افعال کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے تاہم ماہرین نے اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
معمر خواتین پر تحقیق، ذہنی کارکردگی میں بہتری کے آثار
یہ تحقیق زائد وزن یا موٹاپے کا شکار معمر خواتین پر کی گئی، جنہیں مختلف غذائی معمولات کے مطابق جانچا گیا۔نتائج کے مطابق وہ خواتین جنہوں نے روزانہ اپنے تمام کھانے مقررہ آٹھ سے نو گھنٹے کے دوران مکمل کیے، ان کی یادداشت، توجہ اور دیگر ذہنی صلاحیتیں ان خواتین کے مقابلے میں بہتر پائی گئیں جو زیادہ طویل دورانیے میں کھانا کھاتی رہیں۔
ماہرین نے نتائج کو ابتدائی قرار دے دیا
تحقیق سے وابستہ ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک پائلٹ اسٹڈی ہے جس میں محدود تعداد میں افراد کو شامل کیا گیا تھا اس لیے ان نتائج کو حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔
ان کے مطابق اس بات کی تصدیق کے لیے مختلف عمر، جنس اور طبی پس منظر رکھنے والے افراد پر بڑے پیمانے پر مزید مطالعات کی ضرورت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں :
کیوبیک میں نوجوانوں کی ذہنی صحت کے 4 نئے مراکز قائم ہوں گے
کھانے کے اوقات محدود رکھنے سے اضافی فوائد بھی ممکن
امریکا کی رٹجرز یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی غذائی ماہر پروفیسر سو شیپسز کا کہنا ہے کہ وزن میں کمی خود بھی عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی کمزوری کی رفتار کو سست کر سکتی ہے تاہم روزانہ صرف آٹھ سے نو گھنٹے کے دوران کھانا کھانے اور سونے سے چار گھنٹے پہلے کھانا بند کرنے سے دماغی صحت کے لیے اضافی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق اس طرزِ زندگی سے جسم کے حیاتیاتی نظام کو متوازن رکھنے خون میں شوگر کو قابو میں رکھنے اور سوزش کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہےجو دماغی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔
ڈیمنشیا دنیا بھر میں ایک بڑا طبی چیلنج
طبی ماہرین کے مطابق ڈیمنشیا اس وقت دنیا بھر میں اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے اور ہر سال تقریباً 20 لاکھ افراد اس بیماری کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
ڈیمنشیا ایسی بیماری ہے جس میں یادداشت، سوچنے، سمجھنے، فیصلے کرنے اور روزمرہ کے معمولات انجام دینے کی صلاحیت بتدریج متاثر ہوتی جاتی ہے، جس سے مریض کی زندگی کا معیار بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
صحت مند طرزِ زندگی سے خطرہ کم کیا جا سکتا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ عمر اور جینیاتی عوامل کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا لیکن صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر ڈیمنشیا کے تقریباً نصف کیسز کو روکا یا ان کے آغاز میں تاخیر کی جا سکتی ہے۔
ان کے مطابق متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، مناسب نیند، ذہنی مشقیں، تمباکو نوشی سے پرہیز اور وزن کو قابو میں رکھنا دماغی صحت کو بہتر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں :
موسمِ گرما سے قبل کیوبیک کا محکمۂ صحت الرٹ، طبی خدمات کی بندش روکنے کے لیے ہنگامی منصوبے فعال
موٹاپا بھی خطرے میں نمایاں اضافہ کرتا ہے
تحقیق میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ درمیانی عمر میں موٹاپا لاحق ہونے سے بعد کی زندگی میں ڈیمنشیا کا خطرہ تقریباً 30 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات بھی موجودہ نتائج کی تصدیق کرتی ہیں تو محدود وقت میں کھانا کھانے کی عادت بڑھاپے میں دماغی صحت کے تحفظ کے لیے ایک سادہ، مؤثر اور کم خرچ حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔