امریکا اور اسرائیل کے خلاف روسی صدر کا ایران کی حمایت کا کھلا اعلان

 اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )  روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ایرانی عوام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر روسی صدر نے اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پزیشکیان سے ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون پر گفتگو کی گئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ملاقات کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی صدر کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ روسی صدر نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں روس ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

روسی صدر کی جانب سے ایران کی حمایت کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان شدید سیاسی اور اقتصادی کشیدگی برقرار ہے جبکہ ایران کے خلاف امریکی پابندیاں بھی جاری ہیں۔ روس نے اس صورتحال کے باوجود تہران کے ساتھ اپنے اقتصادی اور تجارتی روابط برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

روس کا ایران کے ساتھ تعلقات جاری رکھنے کا اعلان

ولادیمیر پیوٹن نے امریکی پابندیوں کے دباؤ کے باوجود ایران کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ روسی صدر کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان موجودہ فوجی اور سیاسی کشیدگی اقتصادی اور تجارتی تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔

روس کی جانب سے یہ مؤقف اس حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون کرنے والے ممالک کے خلاف بھی کارروائی اور نئی پابندیوں کی دھمکی دے رکھی ہے۔ ایسے میں ماسکو کی جانب سے تہران کے ساتھ اقتصادی روابط برقرار رکھنے کا اعلان روس کے موجودہ مؤقف کی وضاحت کرتا ہے۔

روس اور ایران گزشتہ برسوں کے دوران مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دیتے رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاع، توانائی، تجارت اور علاقائی معاملات سمیت متعدد شعبوں میں روابط موجود ہیں۔

ایرانی صدر سے اہم ملاقات

شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات میں روسی صدر اور ایرانی صدر نے دوطرفہ تعلقات اور باہمی تعاون کے مختلف شعبوں کا جائزہ لیا۔ ایرانی ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر گفتگو کی۔

ملاقات میں موجودہ علاقائی صورتحال اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔ ایرانی قیادت کے مطابق روس کے ساتھ تعلقات ایران کی خارجہ پالیسی میں اہم حیثیت رکھتے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں گزشتہ برسوں کے دوران مسلسل پیش رفت دیکھی گئی ہے۔ خصوصاً دفاع، توانائی اور تجارت کے شعبوں میں باہمی تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکا کی نئی پابندیوں کا دباؤ

روسی صدر کی جانب سے ایران کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات جاری رکھنے کا اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا نے ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون کرنے والے ممالک کے خلاف نئی پابندیوں کی دھمکی دے رکھی ہے۔

امریکی پابندیوں کا مقصد ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانا ہے تاہم روس نے واضح کیا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کرنے کے لیے امریکی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ روس کا یہ مؤقف اس کے ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

ایران کے قریبی اتحادیوں میں روس اور چین کو اہم حیثیت حاصل ہے۔ دونوں ممالک تہران کے ساتھ مختلف سطحوں پر اقتصادی اور سیاسی روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی دباؤ کا دائرہ اگر ان ممالک تک بڑھتا ہے تو ایران کے ساتھ ان کے تعلقات بھی مزید عالمی توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں۔

روس اور ایران کے تعلقات میں مسلسل پیش رفت

روس اور ایران کے تعلقات صرف سیاسی معاملات تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک مختلف اقتصادی اور علاقائی شعبوں میں بھی تعاون کر رہے ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان دفاع، توانائی اور تجارت کے شعبوں میں روابط میں اضافہ ہوا ہے۔

موجودہ صورتحال میں روس کی جانب سے ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات جاری رکھنے کا اعلان ماسکو اور تہران کے درمیان موجود قریبی روابط کی عکاسی کرتا ہے۔ روس نے اس سے قبل بھی عالمی اور علاقائی معاملات میں ایران کے ساتھ مختلف امور پر تعاون کیا ہے۔

ایرانی قیادت بھی روس کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتی ہے اور دونوں ممالک باہمی تعاون کے نئے شعبوں کو تلاش کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔ بشکیک میں ہونے والی تازہ ملاقات میں بھی دونوں صدور نے دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

علاقائی کشیدگی کے دوران روس کا مؤقف

امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایران کی موجودہ صورتحال کے دوران روس کی جانب سے کھل کر ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ روسی صدر نے ایرانی قیادت کو حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے واضح کیا کہ موجودہ حالات دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر نہیں کریں گے۔

روس کا یہ مؤقف عالمی سطح پر بھی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ایران کے خلاف امریکی دباؤ میں اضافہ ہونے کی صورت میں تہران کو اپنے قریبی اتحادیوں کی حمایت مزید اہم محسوس ہوسکتی ہے۔ روس کی جانب سے اقتصادی اور تجارتی روابط جاری رکھنے کا اعلان ایران کے لیے سفارتی اور اقتصادی اعتبار سے اہم پیغام ہے۔

دفاع اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون

فراہم کردہ معلومات کے مطابق روس اور ایران کے درمیان گزشتہ برسوں میں دفاع، توانائی، تجارت اور علاقائی امور سمیت متعدد شعبوں میں تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں باہمی روابط کو فروغ دینے کی کوششیں جاری رکھی ہیں۔

دفاعی تعاون کے علاوہ توانائی اور تجارت بھی دونوں ممالک کے تعلقات کا اہم حصہ ہیں۔ روس اور ایران خطے میں اپنے باہمی مفادات کے حوالے سے بھی ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔

حالیہ ملاقات میں دونوں صدور کی جانب سے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ سیاسی اور فوجی کشیدگی کے باوجود روس اور ایران اپنے دوطرفہ تعلقات کو برقرار رکھنے اور مزید آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔

روس کا واضح پیغام

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے ایرانی صدر مسعود پزیشکیان سے ملاقات اور ایران کے ساتھ کھلی حمایت کا اظہار روس کی موجودہ پالیسی کا واضح اشارہ ہے۔ ماسکو نے نہ صرف ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا بلکہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات جاری رکھنے کے عزم کو بھی دہرایا ہے۔

امریکی پابندیوں اور دباؤ کے باوجود روس کا ایران کے ساتھ روابط برقرار رکھنے کا فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب ایران بھی روس کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

یوں بشکیک میں روسی اور ایرانی صدور کی ملاقات نے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران روس کی جانب سے ایران کی حمایت اور اقتصادی و تجارتی تعلقات جاری رکھنے کا اعلان ماسکو اور تہران کے درمیان مضبوط ہوتے روابط کی نمایاں علامت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

ہمیں فالو کریں