اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان کی جانب سے 2026-27 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت کونسل کی صدارت سنبھالنا محض ایک رسمی ذمہ داری نہیں بلکہ خطے میں اپنی سفارتی اور معاشی ترجیحات کو آگے بڑھانے کا اہم موقع ہے۔ بشکیک میں اجلاس کے اعلامیے پر وزیر اعظم شہباز شریف کے دستخط کے بعد پاکستان کو تنظیم کے آئندہ دور کی قیادت کا باضابطہ مینڈیٹ مل گیا ہے۔
علاقائی سطح پر اہم کردار
ایس سی او میں چین، روس، پاکستان، بھارت اور وسطی ایشیا کے اہم ممالک شامل ہیں، اس لیے تنظیم کی صدارت پاکستان کو علاقائی معاملات پر اپنی ترجیحات اجاگر کرنے اور رکن ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کا موقع فراہم کرے گی۔ موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال میں سکیورٹی، تجارت، توانائی اور باہمی رابطوں جیسے موضوعات کی اہمیت مزید بڑھ چکی ہے۔
معاشی تعاون پر توجہ
پاکستان کے لیے ایس سی او کی صدارت کا ایک اہم پہلو معاشی اور تجارتی تعاون کو فروغ دینا ہوسکتا ہے۔ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت، ٹرانسپورٹ روابط اور توانائی کے منصوبوں میں پیش رفت پاکستان کے لیے نئی معاشی راہیں کھول سکتی ہے۔ خصوصاً پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے وسطی ایشیا اور عالمی منڈیوں کے درمیان رابطے کے اہم راستے کے طور پر پیش کرنے کا موقع دیتی ہے۔
پاک ازبک تعلقات بھی اہم
ایس سی او اجلاس کے موقع پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ازبک ہم منصب بختیار سعیدوف سے ملاقات بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ شراکت داری مزید بڑھانے اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت، توانائی، ریل اور زمینی رابطوں میں تعاون بڑھانے کی گنجائش موجود ہے، اس لیے ایس سی او پلیٹ فارم دونوں ممالک کے لیے دوطرفہ منصوبوں کو علاقائی تعاون سے جوڑنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
سفارتی امتحان بھی ہوگا
تاہم ایس سی او کی صدارت پاکستان کے لیے ایک موقع کے ساتھ ساتھ امتحان بھی ہے۔ تنظیم میں مختلف ممالک کے مفادات کئی معاملات پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں، جبکہ خطے میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات بھی حساس نوعیت رکھتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کو متوازن سفارت کاری کے ذریعے تنظیم کے اندر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔
مجموعی طور پر ایس سی او کی صدارت پاکستان کو علاقائی سفارت کاری، معاشی روابط اور وسطی ایشیا کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرسکتی ہے۔ اگر اسلام آباد اپنی صدارت کے دوران عملی منصوبوں اور مشترکہ اقدامات پر توجہ مرکوز رکھتا ہے تو یہ دور پاکستان کے علاقائی کردار کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
