لارک جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا اردن میں 2 امریکی اڈوں پر جوابی وار

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایران نے اپنے جزیرے لارک پر امریکی حملے کے بعد اردن میں موجود 2 امریکی فوجی اڈوں اور خلیج میں بحری جہازوں پر جوابی حملے کر دیے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کا دعویٰ

ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی جزیرے لارک پر حملے کے جواب میں اردن میں موجود 2 امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے اردن میں کنگ حسین اور الازرق کے امریکی فوجی اڈوں کو میزائل حملوں کا ہدف بنایا۔ ایرانی حکام نے اس کارروائی کو لارک جزیرے پر امریکی حملے کا جواب قرار دیا ہے۔

میزائل حملے ناکام بنانے کا دعویٰ

دوسری جانب امریکی ذرائع کے مطابق ایران سے داغے گئے تقریباً تمام میزائلوں کو فضا میں ہی روک لیا گیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں کوئی بڑا نن نہیں ہوا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اردن میں موجود امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے ایران سے آنے والے میزائلوں کو ناکام بنانے میں کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں :ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ تو ہیں مگر شدید ترین زخمی ہیں، ٹرمپ کا دعویٰ

لارک جزیرے پر امریکی حملہ

یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی فورسز نے ایران کے لارک جزیرے پر پاسداران انقلاب کے 2 راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا۔

امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایرانی فورسز ان راکٹ لانچرز کے ذریعے آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں بچھانے کی تیاری کر رہی تھیں۔

ایرانی اہلکاروں اور شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ

ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی حملے میں متعدد ایرانی اہلکاروں اور شہریوں کے شہید اور زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

تاہم فوری طور پر ان حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد سامنے نہیں آئی۔ایرانی حکام نے لارک جزیرے پر امریکی کارروائی کو اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے اس کے جواب میں جوابی کارروائی کی ہے۔

تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، جبکہ خطے میں صورتحال پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

ہمیں فالو کریں