نئے صوبوں کا قیام آئینی تقاضے اور دو تہائی اکثریت سے مشروط ہے، اعظم نذیر تارڑ

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے حکومت کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی تقاضے پورے ہونے اور پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل ہونے کی صورت میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام ممکن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ سیاسی نعروں کے بجائے آئینی اور پارلیمانی طریقہ کار کے تحت ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔

لندن میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کیلئے آئین میں واضح طریقہ کار موجود ہے۔ جب پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلیاں اس حوالے سے متفقہ طور پر فیصلہ کریں گی تو نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

آئینی طریقہ کار ضروری

اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ نئے صوبے بنانا ایک اہم آئینی معاملہ ہے جس کیلئے محض سیاسی اتفاق کافی نہیں بلکہ آئینی تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔ اس عمل کیلئے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے جبکہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری بھی آئینی طریقہ کار کا حصہ ہے۔

وفاقی وزیر قانون کے مطابق نئے صوبوں کا قیام ایک ایسا معاملہ ہے جس پر قومی اور صوبائی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ نئے صوبوں کا معاملہ محض انتظامی فیصلے کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔

سیاسی اتفاق رائے پر زور

انہوں نے کہا کہ جب پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلیاں متفقہ طور پر فیصلہ کریں گی تو نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے پیش رفت ممکن ہوگی۔ اس کیلئے سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت اور اتفاق رائے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

اعظم نذیر تارڑ کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ حکومت کیلئے ایک آئینی اور پارلیمانی عمل ہے جس میں تمام متعلقہ فورمز کی منظوری ضروری ہوگی۔

آزاد کشمیر کے انتخابات

آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ وہاں سب سے بڑا چیلنج بروقت اور شفاف انتخابات کا انعقاد تھا، تاہم یہ مرحلہ پرامن انداز میں مکمل ہوا۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں انتخابی عمل کے پرامن انعقاد کو اہم پیش رفت سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق انتخابات کے بعد حکومت سازی اور وزیر اعظم کے انتخاب کا مرحلہ سیاسی جماعتوں کے فیصلوں اور مشاورت کے مطابق آگے بڑھا۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر کا انتخاب

اعظم نذیر تارڑ نے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے انتخاب کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں حتمی اختیار مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے پاس تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اپنے سیاسی فیصلے کیے اور وزیر اعظم کے انتخاب کا معاملہ بھی پارٹی قیادت کی مشاورت سے طے کیا گیا۔

اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت

ملکی سیاسی صورتحال کے حوالے سے سوال پر وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان متعدد مرتبہ اپوزیشن کو سیاسی مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :ٹورنٹو میں 5,600 نئے کرائے کے گھر، کینیڈین حکومت کا 2.7 ارب ڈالر کے منصوبے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام کیلئے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن قومی معاملات اور ملک کو درپیش چیلنجز کے حل کیلئے تمام سیاسی قوتوں کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے۔

مذاکرات کیلئے دروازے کھلے

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت نے سیاسی مذاکرات کیلئے ہمیشہ اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں سیاسی کشیدگی کم کرنے اور مختلف مسائل پر اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے مذاکرات ایک مؤثر راستہ ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سیاسی مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی خواہاں ہے اور اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیلئے آمادگی کا اظہار وزیراعظم کی جانب سے بھی متعدد مرتبہ کیا جاچکا ہے۔

سیاسی استحکام ناگزیر

وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ملک کی ترقی اور معاشی استحکام کیلئے سیاسی استحکام انتہائی ضروری ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے کم کیا جاسکتا ہے تاکہ قومی معاملات پر وسیع تر اتفاق رائے پیدا ہو۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں سیاسی قوتوں کو ملک کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے بات چیت اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

اعظم نذیر تارڑ کے بیان کے بعد نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی اور آئینی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کیلئے آئینی تقاضوں کی تکمیل، متعلقہ اسمبلیوں کی منظوری اور پارلیمنٹ میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت بنیادی شرائط ہیں۔

ہمیں فالو کریں