ٹورنٹو کی پرانی سوپ فیکٹری میں کوانٹم کمپیوٹنگ کے نئے دور کا آغاز

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا میں کئی برس تک سوپ تیار کرنے والی ایک پرانی صنعتی فیکٹری اب جدید ترین کوانٹم کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی کی تیاری کے لیے استعمال کی جائے گی۔ ٹورنٹو کے مغربی حصے میں واقع سابق کیمبل سوپ پلانٹ کو ٹورنٹو کی ٹیکنالوجی کمپنی زینڈو کوانٹم ٹیکنالوجیز کے جدید مینوفیکچرنگ مرکز میں تبدیل کیا جارہا ہے، جس کے لیے کینیڈین وفاقی حکومت نے کمپنی کو 195 ملین ڈالر کی قابل واپسی مالی معاونت دینے کا اعلان کردیا ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی جاری ہے اور کینیڈا کو اپنی ٹیکنالوجی اور صنعتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہورہی ہے۔ کینیڈا کے وزیر برائے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اختراع ایوان سولومن نے ٹورنٹو میں سابق سوپ فیکٹری کے اندر مالی معاونت کا اعلان کرتے ہوئے اسے ملک کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کے حوالے سے اہم دن قرار دیا۔

پرانی فیکٹری اب جدید ٹیکنالوجی کا مرکز بنے گی

سابق کیمبل سوپ فیکٹری کئی برس سے غیر فعال اور خالی پڑی تھی۔ اب اسی عمارت کو زینڈو کوانٹم ٹیکنالوجیز کے لیے جدید مینوفیکچرنگ مرکز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

کمپنی اس مقام پر ایسے فوٹونک کوانٹم کمپیوٹرز کی تیاری کرے گی جو بڑے پیمانے پر استعمال کے قابل ہوں اور جن میں غلطیوں سے محفوظ یا کم خطرے والے کوانٹم نظام تیار کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے پر توجہ دی جائے گی۔

منصوبے کے مطابق تقریباً ایک لاکھ 58 ہزار مربع فٹ پر مشتمل اس مرکز کی مجموعی لاگت 893 ملین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ یہاں 275 افراد کو روزگار فراہم کیا جائے گا۔ اس طرح ایک ایسی عمارت جو کبھی خوراک کی تیاری کے لیے استعمال ہوتی تھی، اب کینیڈا کی جدید ٹیکنالوجی کی صنعت میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

زینڈو روشنی کی مدد سے کوانٹم کمپیوٹر تیار کرتی ہے

زینڈو کوانٹم ٹیکنالوجیز کا قیام 2016 میں عمل میں آیا تھا۔ کمپنی ایسے سافٹ ویئر اور کوانٹم کمپیوٹرز تیار کرنے پر کام کررہی ہے جو بجلی کے بجائے روشنی کی مدد سے معلومات پر کارروائی کرتے ہیں۔

روایتی کمپیوٹرز میں بجلی دھاتی تاروں کے ذریعے گزرتی ہے جس کے نتیجے میں حرارت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس زینڈو کے تیار کردہ نظام میں روشنی کے ذرات کو مخصوص چپس کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ اس طریقے میں برقی مزاحمت سے پیدا ہونے والی حرارت کا مسئلہ مختلف انداز میں سامنے آتا ہے۔

کمپنی کے کوانٹم کمپیوٹنگ یونٹس کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ دیگر کئی کوانٹم کمپیوٹرز کے برعکس انہیں انتہائی طاقتور اور توانائی استعمال کرنے والے کولنگ نظام کی ضرورت نسبتاً کم ہوتی ہے اور یہ بڑے پیمانے پر کمرے کے درجہ حرارت کے قریب کام کرسکتے ہیں۔

غلطیوں سے محفوظ کوانٹم کمپیوٹنگ کی جانب اہم قدم

زینڈو نے گزشتہ جون میں ایک ایسی چپ متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا جو نسبتاً زیادہ مزاحمت رکھنے والے فوٹونک کیوبٹس پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کیوبٹ کوانٹم کمپیوٹنگ میں معلومات کی بنیادی اکائی سمجھا جاتا ہے۔

کوانٹم کمپیوٹنگ کے شعبے میں ایک بڑا چیلنج ایسا کمپیوٹر تیار کرنا ہے جو بڑے پیمانے پر کام کرسکے اور حساب کے دوران پیدا ہونے والی غلطیوں کو مؤثر طریقے سے قابو میں رکھ سکے۔ زینڈو کا نیا مینوفیکچرنگ مرکز اسی سمت میں کمپنی کی صلاحیتوں کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

کینیڈین وزیر ایوان سولومن نے کوانٹم کمپیوٹنگ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ جو ممالک غلطیوں سے محفوظ کوانٹم کمپیوٹر تیار کرنے میں کامیاب ہوں گے، ان کے پاس سائبر سکیورٹی کے موجودہ نظاموں کو متاثر کرنے کی غیر معمولی صلاحیت ہوسکتی ہے۔

کوانٹم ٹیکنالوجی عالمی مقابلے کا میدان بن چکی

کینیڈین حکومت کے مطابق امریکا، چین اور یورپ سمیت دنیا کی بڑی طاقتیں کوانٹم ٹیکنالوجی میں سبقت حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ اس شعبے میں کامیابی مستقبل کی مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، طبی تحقیق اور دیگر اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لاسکتی ہے۔

ایوان سولومن نے اس ٹیکنالوجی کو کینیڈا کی قومی سلامتی اور خودمختاری کے لیے بھی اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق اس شعبے میں کینیڈا کے اندر موجود دانشورانہ ملکیت اور کمپنیوں کی صلاحیت ملک کے لیے ایک اہم اثاثہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا صرف دنیا کے بڑے مسائل کے حل میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ ملک اس شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور اقدامات کرنا چاہتا ہے۔

وفاقی حکومت کی کوانٹم حکمت عملی

کینیڈا کی وفاقی حکومت نے 2023 میں 360 ملین ڈالر کی قومی کوانٹم حکمت عملی شروع کی تھی۔ زینڈو کے لیے اعلان کردہ 195 ملین ڈالر کی مالی معاونت اسی حکمت عملی کے تحت کوانٹم ٹیکنالوجی کی تیاری کے لیے اب تک کی سب سے بڑی واحد مالی وابستگی قرار دی جارہی ہے۔

یہ رقم عام قرض کے بجائے قابل واپسی وفاقی مالی معاونت کی صورت میں فراہم کی جارہی ہے۔ رقم کینیڈا کے انوویشن، سائنس اینڈ اکنامک ڈیولپمنٹ محکمے کے اسٹریٹیجک رسپانس فنڈ سے فراہم کی جائے گی۔

اس فنڈ سے زینڈو کو اس سے قبل 2023 میں 40 ملین ڈالر کی مالی معاونت بھی دی گئی تھی۔

اونٹاریو حکومت کی مزید مالی معاونت پر بات چیت

زینڈو نے رواں سال مارچ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مجموعی طور پر 390 ملین ڈالر تک کی ممکنہ مالی معاونت کے لیے مذاکرات کا اعلان کیا تھا۔ مقصد کینیڈا میں جدید سیمی کنڈکٹر اور فوٹونک مینوفیکچرنگ کی صلاحیت پیدا کرنا تھا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے 195 ملین ڈالر کے اعلان کے بعد کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کرسچن ویڈبروک نے بتایا کہ اونٹاریو حکومت کی جانب سے ممکنہ طور پر مزید 195 ملین ڈالر کی مالی معاونت پر بات چیت اب بھی جاری ہے۔

ان کے مطابق صوبائی حکومت کے ساتھ مذاکرات حتمی مرحلے کی بات چیت اور مشاورت میں داخل ہوچکے ہیں۔ یوں اگر صوبائی سطح پر بھی مالی معاونت منظور ہوجاتی ہے تو منصوبے کے لیے مجموعی سرکاری مدد مزید بڑھ سکتی ہے۔

کینیڈا کی ٹیکنالوجی صنعت کے لیے بڑا منصوبہ

زینڈو کے منصوبے کو کینیڈا کے ٹیکنالوجی شعبے میں حکومت کی بڑی سرمایہ کاری میں شمار کیا جارہا ہے۔ اس سے قبل وفاقی حکومت نے 2024 میں اوٹاوا کی سیٹلائٹ کمپنی ٹیلی سیٹ کو 2.14 ارب ڈالر کا قرض فراہم کیا تھا، جو حکومت کی بڑی واحد کمپنی سرمایہ کاری میں شامل ہے۔

زینڈو کے منصوبے کی خاص اہمیت اس لیے بھی ہے کہ اس کا مقصد صرف ایک نئی ٹیکنالوجی کمپنی کو مالی مدد فراہم کرنا نہیں بلکہ کینیڈا میں کوانٹم کمپیوٹنگ کے لیے مکمل صنعتی اور مینوفیکچرنگ صلاحیت پیدا کرنا ہے۔

مصنوعی ذہانت اور طبی سائنس میں بھی ممکنہ استعمال

کوانٹم کمپیوٹنگ کو مستقبل کی کئی اہم ٹیکنالوجیز کے لیے بنیادی حیثیت حاصل ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس شعبے میں پیش رفت مصنوعی ذہانت، طبی سائنس اور معیشت کے دیگر اہم شعبوں میں نئے امکانات پیدا کرسکتی ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ جدید کوانٹم کمپیوٹرز پیچیدہ مسائل کو روایتی کمپیوٹرز کے مقابلے میں مختلف اور بعض حالات میں زیادہ مؤثر طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایوان سولومن نے کوانٹم کمپیوٹنگ کی رفتار اور صلاحیت کو بیان کرتے ہوئے روایتی ڈیجیٹل کمپیوٹنگ کو گھوڑے پر سفر کرنے سے جبکہ کوانٹم کمپیوٹنگ کو راکٹ پر سفر کرنے سے تشبیہ دی۔

سوپ فیکٹری سے مستقبل کی ٹیکنالوجی تک

ٹورنٹو کی سابق کیمبل سوپ فیکٹری کی نئی شکل کینیڈا میں صنعتی تبدیلی کی ایک نمایاں مثال بن سکتی ہے۔ جہاں ماضی میں خوراک تیار کی جاتی تھی، وہاں اب مستقبل کے کمپیوٹنگ نظام تیار کرنے کا منصوبہ ہے۔

زینڈو کا یہ منصوبہ کینیڈا کی جانب سے اپنی مقامی ٹیکنالوجی، صنعتی صلاحیت اور کوانٹم کمپیوٹنگ کے شعبے میں عالمی مقام مضبوط کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ وفاقی حکومت کی 195 ملین ڈالر کی مالی معاونت، ممکنہ صوبائی سرمایہ کاری اور تقریباً 893 ملین ڈالر کے مجموعی منصوبے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کینیڈا کوانٹم ٹیکنالوجی کو مستقبل کی معیشت اور قومی سلامتی کے اہم شعبے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

اگر منصوبہ طے شدہ انداز میں آگے بڑھتا ہے تو ٹورنٹو کی یہ سابق سوپ فیکٹری نہ صرف 275 افراد کے لیے روزگار کا ذریعہ بنے گی بلکہ کینیڈا میں جدید کوانٹم کمپیوٹنگ کی صنعتی تیاری کے ایک اہم مرکز کے طور پر بھی سامنے آسکتی ہے۔

ہمیں فالو کریں