اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز) وفاقی دارالحکومت میں واقع سرحد یونیورسٹی کے کیمپس میں طلبہ کے احتجاج کے دوران فائرنگ کے واقعے نے صورتحال کو کشیدہ کردیا۔ طلبہ کے مطابق احتجاج کے دوران فوجی وردی میں ملبوس ایک شخص نے پستول نکال کر مبینہ طور پر ہوائی فائرنگ کی، جس کے بعد کیمپس میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
واقعے سے متعلق مختلف دعوے سامنے آئے ہیں تاہم واقعے کی مکمل تفصیلات اور فائرنگ کی وجوہات کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
احتجاج کی وجہ
طلبہ کے مطابق وہ اپنے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان کے ساتھ مبینہ نامناسب رویے کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ طلبہ کا دعویٰ ہے کہ ڈاکٹر جدون خان اور یونیورسٹی کی ایچ آر منیجر کے درمیان کسی معاملے پر تنازع پیدا ہوا، جس کے بعد مبینہ طور پر ڈاکٹر جدون کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔
طلبہ نے الزام عائد کیا کہ ایچ آر منیجر نے ڈاکٹر جدون کو دھکا دیا اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی دھمکی دی۔ اس معاملے پر طلبہ نے اپنے استاد کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے کیمپس میں احتجاج کیا اور ’’جسٹس فار سر‘‘ کے نعرے لگائے۔
طلبہ اور خاتون میں تلخ کلامی
احتجاج کے دوران ایچ آر منیجر کے کیمپس میں آنے پر طلبہ کے ساتھ تلخ کلامی کی صورتحال پیدا ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی میں فائرنگ ، ایک شخص ہلاک،متعدد زخمی
طلبہ کا الزام ہے کہ خاتون نے بعض طلبہ کو مبینہ طور پر تھپڑ مارے، جس کے بعد انہوں نے اپنے شوہر کو فون کرکے موقع پر بلایا۔ طلبہ کے مطابق خاتون کے شوہر فوجی افسر ہیں۔
وردی میں افسر کی آمد
طلبہ کے مطابق کچھ دیر بعد مذکورہ شخص فوجی وردی میں کیمپس پہنچا۔ طلبہ کا دعویٰ ہے کہ افسر نے ایک طالب علم پر چھڑی سے مبینہ طور پر حملہ کیا، جس کے بعد احتجاج کرنے والے طلبہ کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔۔
اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں ناخوشگوار واقع پیش آیا ایک فوجی افسر کی قریبی عزیزہ کے ساتھ بدتمیزی ہوئی اس نے فون کر کے افسر کو بلا لیا پھر وہاں یہ واقعہ ہو گیا فوجی افسر کوانکے ادارے نےتحویل میں لیکرانکوائری شروع کر دی ہےفوجی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر افسر کےخلاف سخت کارروائی ہو گی pic.twitter.com/Hzq6vPFjOz
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) August 24, 2026
صورتحال بگڑنے پر افسر کی جانب سے پستول نکالنے اور مبینہ طور پر ہوائی فائرنگ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ فائرنگ کے بعد کیمپس میں موجود طلبہ اور دیگر افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
پولیس موقع پر پہنچ گئی
واقعے کی اطلاع ملنے پر اسلام آباد پولیس کا ایک افسر بھی موقع پر پہنچا۔ طلبہ کے مطابق پولیس افسر نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ واقعے میں ملوث شخص کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
طلبہ نے واقعے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج ان کے استاد کے ساتھ مبینہ ناانصافی کے خلاف تھا۔
فوجی افسر کی گرفتاری کا دعویٰ
سینیئر صحافی حامد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ پاک فوج نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مبینہ طور پر فائرنگ میں ملوث افسر کو حراست میں لے لیا ہے اور اس کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں اور فائرنگ کے حالات سے متعلق سرکاری طور پر تفصیلی مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔
شفاف تحقیقات کا مطالبہ
کیمپس میں موجود طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج اپنے استاد کے خلاف مبینہ جھوٹے مقدمات اور دھمکیوں کے خلاف تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پورے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی بھی فریق کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
واقعے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ اداروں کی جانب سے صورتحال کا جائزہ لیا جارہا ہے، جبکہ مزید حقائق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔
