ایران امریکا تنازع، جنگ کے ساتھ سفارت کاری کے لیے بھی تیار ہیں، عباس عراقچی

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے لیے بھی تیار ہے اور حقیقی سفارت کاری کے ذریعے تنازع کے حل اور حالات میں مثبت پیش رفت کا خواہاں بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کسی بھی جارحیت کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گا، خواہ اس کے نتیجے میں انتہائی تباہ کن جنگ ہی کیوں نہ چھڑ جائے۔

امن کے لیے نیویارک آمد

عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وہ نیویارک امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے آئے تھے، جنگ کو مزید بڑھانے کے لیے نہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی اعلیٰ سطحی وفد کی موجودگی کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطے بھی ہوئے۔ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باعث مختلف معاملات میں ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔

سفارت کاری کا راستہ کھلا

ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ تہران سفارتی راستے کو بند نہیں کرنا چاہتا۔ ان کے مطابق ایران حقیقی مذاکرات اور ایسے سفارتی عمل کے لیے تیار ہے جس سے موجودہ بحران کو کم کرنے اور تنازع کے خاتمے کی راہ نکل سکے۔

عباس عراقچی نے امریکی ٹی وی پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘ میں شرکت کے بعد بھی یہی مؤقف دہرایا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کے لیے تیار ہے۔

امریکا ایران مذاکرات کا امکان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان رواں ہفتے مزید مذاکرات ہوسکتے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق قطر سمیت علاقائی ثالث دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ رابطوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تاہم دونوں فریقوں کے درمیان تنازع ختم کرنے کے طریقہ کار اور مذاکرات کے بنیادی نکات پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔ امریکی مؤقف میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات اہم ہیں جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز، امریکی فوجی دباؤ اور پابندیوں کے خاتمے کو اپنی تجاویز میں مرکزی حیثیت دی ہے۔

سات روزہ منصوبہ کیا ہے؟

ایران نے امریکا کو ایک سات روزہ منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے تحت بعض شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو سات دن کے اندر دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں :عباس عراقچی نیویارک پہنچ گئے، جنرل اسمبلی میں ایرانی مؤقف پیش کریں گے

عباس عراقچی کے مطابق اس منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز امریکا کی جانب سے شرائط قبول کیے جانے کے بعد ہوسکتا ہے۔ ایرانی تجویز میں امریکی بحری ناکہ بندی میں نرمی، تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں میں تبدیلی اور خطے میں جنگ بندی سے متعلق اقدامات شامل تھے۔

ٹرمپ نے تجویز مسترد کردی

ایرانی تجویز کے سامنے آنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے مسترد کردیا۔ تاہم اس کے باوجود ٹرمپ نے مزید مذاکرات کے امکان کو رد نہیں کیا اور کہا کہ وہ رواں ہفتے ایران کے ساتھ مزید بات چیت کی توقع رکھتے ہیں۔

امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان اس سے قبل بھی ثالثوں کے ذریعے رابطے ہوئے ہیں، جن میں قطر نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ تازہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں جانب سے مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔

آبنائے ہرمز اہم معاملہ

آبنائے ہرمز موجودہ تنازع میں مرکزی اہمیت اختیار کرچکا ہے کیونکہ یہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے۔ ایران نے اسے دوبارہ کھولنے کو وسیع تر معاہدے اور امریکی اقدامات سے مشروط کیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر واشنگٹن ان کی بنیادی شرائط قبول کرتا ہے تو سات روزہ ٹائم لائن کے تحت آبنائے ہرمز کھولنے کا عمل شروع کیا جاسکتا ہے۔

اختلافات برقرار

مذاکرات کے امکانات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔ امریکا ایران سے جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات پر رعایتیں چاہتا ہے، جبکہ تہران فوجی دباؤ، پابندیوں اور آبنائے ہرمز سے متعلق اپنے مطالبات پر زور دے رہا ہے۔

اسی وجہ سے ممکنہ مذاکرات میں سب سے بڑا سوال یہ ہوگا کہ دونوں ممالک اپنے اپنے مطالبات میں کس حد تک لچک دکھاتے ہیں۔

جنگ یا مذاکرات؟

عباس عراقچی کا تازہ مؤقف یہ ہے کہ ایران ایک طرف کسی بھی فوجی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے تو دوسری طرف سفارت کاری کا راستہ بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ کی جانب سے ایرانی سات روزہ منصوبہ مسترد کیے جانے کے باوجود مزید مذاکرات کی توقع ظاہر کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔

اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ رواں ہفتے ممکنہ مذاکرات میں امریکا اور ایران اپنے اختلافات کم کرنے کے لیے کوئی قابلِ عمل راستہ نکال پاتے ہیں یا نہیں۔

ہمیں فالو کریں