اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کینیڈا کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کے لیے فوری پیش رفت کی ضرورت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا موجودہ صورتحال سے مطمئن ہے اور معاہدے کے لیے جلدی میں نہیں۔
امریکا موجودہ صورتحال سے مطمئن
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے امریکی ٹی وی نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا کے ساتھ موجودہ تجارتی صورتحال سے مطمئن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا کی جانب سے وقتاً فوقتاً امریکا سے رابطہ کیا جاتا ہے اور ممکنہ معاہدوں کے حوالے سے اچھی بات چیت بھی ہوتی ہے، تاہم امریکی حکومت کی جانب سے کسی فوری معاہدے کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔
تجارتی تنازع برقرار
کینیڈا اور امریکا کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد سے تجارتی تنازع جاری ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اس وقت مزید کشیدہ ہوگئے جب گزشتہ ماہ نئے تجارتی معاہدے کے لیے ہونے والے مذاکرات آخری مرحلے میں ناکام ہوگئے۔
امریکی مؤقف ہے کہ کینیڈا نے ایک بہتر تجارتی معاہدے سے خود کو پیچھے ہٹایا، جبکہ کینیڈین حکومت کا کہنا ہے کہ امریکا نے مذاکرات میں سنجیدگی اور نیک نیتی کا مظاہرہ نہیں کیا اور بعض معاملات میں کینیڈا کی خودمختاری سے متعلق خدشات پیدا کیے۔
تیل اور گیس کی تجارت جاری
جیمیسن گریئر نے کہا کہ موجودہ اختلافات کے باوجود امریکا کو کینیڈا سے تیل، گیس، پوٹاش اور دیگر اہم اشیا مسلسل مل رہی ہیں۔
ان کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان زرعی مصنوعات سمیت مختلف اشیا کی سرحد پار تجارت بھی جاری ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اختلافات کے باوجود کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی روابط بڑے پیمانے پر برقرار ہیں۔
کینیڈین اشیا پر بھاری ٹیرف
امریکا نے 22 اگست کو کینیڈا سے درآمد ہونے والی تقریباً 28 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر 50 فیصد ڈیوٹی عائد کردی تھی۔
کینیڈا نے بھی 8 ستمبر سے امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف وصول کرنا شروع کیے۔ یہ اقدامات پہلے سے عائد ان محصولات کے علاوہ ہیں جو کینیڈین اسٹیل، ایلومینیم، گاڑیوں اور لکڑی کی مصنوعات پر لاگو ہیں۔
مزید مصنوعات پر پابندی کا منصوبہ
ٹرمپ انتظامیہ نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی بعض مزید مصنوعات پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔رپورٹ کے مطابق کینیڈین الکوحل، موٹر سائیکلوں اور مولاسس سمیت کچھ مصنوعات کی درآمد پر اگلے ہفتے سے پابندی عائد کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اختلافات مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
ٹرمپ کی کینیڈا پر تنقید
تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی متعدد پیغامات جاری کیے۔انہوں نے شمالی امریکا کا ایک نقشہ پوسٹ کیا جس میں کینیڈا پر امریکی پرچم دکھایا گیا تھا۔ ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ کی کارٹون تصویر دکھائی گئی جس میں وہ وزیراعظم مارک کارنی کے اوپر کھڑے تھے اور ساتھ تحریر تھا کہ گورنر اٹھیں۔ٹرمپ نے ایک حکم کے ذریعے لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکا‘‘ رکھنے کا بھی اعلان کیا۔
کینیڈا مذاکرات جاری رکھے گا
کینیڈا کے وزیر تجارت ڈومینک لی بلانک نے امریکی تجارتی نمائندے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جیمیسن گریئر کے تبصرے ان کی اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ ہونے والی گفتگو سے مطابقت رکھتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دونوں کے درمیان ہفتے میں کئی مرتبہ بات چیت ہوتی ہے اور جمعے کو بھی ان کی گفتگو طے تھی۔
لی بلانک کا کہنا تھا کہ کینیڈا کسی معاہدے کے لیے فون کے انتظار میں نہیں بیٹھا بلکہ امریکا کے ساتھ بات چیت اور مذاکرات جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق کینیڈا ایک مناسب معاہدے تک پہنچنے کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہا ہے۔
سابق سفیر نے مختلف پہلو اجاگر کردیا
امریکا میں کینیڈا کے سابق سفیر فرینک میک کینا نے امریکی حکام کی جانب سے ’’کوئی جلدی نہیں‘‘ کے مؤقف کو احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں آئندہ وسط مدتی انتخابات کے حوالے سے بعض اہم ریاستوں میں سیاسی صورتحال تبدیل ہورہی ہے اور مہنگائی و اخراجات کا معاملہ ووٹرز کے لیے اہم مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق تجارت بھی اشیا کی قیمتوں اور عوامی اخراجات سے جڑی ہوئی ہے۔
معاہدہ کب ہوگا؟
فرینک میک کینا کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان رابطے بدستور جاری ہیں، اس لیے کسی مرحلے پر حالات ایسے بن سکتے ہیں کہ نیا تجارتی معاہدہ طے پا جائے۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات اتنے گہرے ہیں کہ دونوں ممالک کے لیے بالآخر کسی نہ کسی تجارتی معاہدے تک پہنچنا ایک منطقی ضرورت بن سکتا ہے۔
فی الحال تاہم دونوں حکومتوں کے مؤقف میں واضح فرق موجود ہے۔ امریکا فوری معاہدے کے لیے دباؤ محسوس نہیں کر رہا، جبکہ کینیڈا مذاکرات جاری رکھنے اور باہمی مفادات کے مطابق معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں ٹیرف، تجارتی پابندیوں اور جاری مذاکرات سے یہ واضح ہوگا کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کم کرنے کی طرف کس رفتار سے بڑھتے ہیں۔
