اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر اجیکس میں اسکول بس کے روٹ میں تبدیلی نے والدین کو شدید پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ نئے روٹ کے باعث ان کے بچے روزانہ دو گھنٹے سے زیادہ وقت بس میں گزار رہے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ تھک کر گھر پہنچتے ہیں اور ان کی تعلیمی و غیر نصابی سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی ہیں۔
بچے شدید تھکن کا شکار
اجیکس کے رہائشی ریان اسکولر نے بتایا کہ ان کا 14 سالہ بیٹا طویل بس سفر کے باعث اتنا تھک جاتا ہے کہ اب اس نے غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا بھی چھوڑ دیا ہے۔
ان کے مطابق بیٹے نے ایک صبح بتایا کہ گزشتہ رات وہ صرف پانچ گھنٹے سو سکا، جو ایک 14 سالہ نوجوان کے لیے کافی نہیں۔ اسکولر کا کہنا تھا کہ مسلسل پانچ دن طویل سفر اور اسکول کے معمول کے باعث بچہ شدید تھکن کا شکار رہتا ہے اور ہفتے کے آخر میں معمول سے زیادہ دیر تک سو کر اپنی نیند پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسکول صبح 8 بجے شروع
والدین کے مطابق مسئلہ صرف واپسی کے سفر تک محدود نہیں بلکہ صبح بھی بچوں کو بہت جلد گھر سے نکلنا پڑتا ہے۔اسکولر نے بتایا کہ ان کے بیٹے کا اسکول صبح 8 بجے شروع ہوتا ہے، اس لیے اسے صبح 7 بجے سے پہلے ہی بس میں سوار ہونا پڑتا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ اتنی کم عمر میں بچوں کا روزانہ اتنا طویل سفر ان کی نیند، پڑھائی اور معمولات زندگی کو متاثر کررہا ہے۔
پہلے روٹ کا وقت کم کیا گیا تھا
والدین کی ناراضی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ سال اسی بس روٹ کے حوالے سے مسائل سامنے آنے کے بعد انتظامیہ نے سفر کا دورانیہ کم کرکے تقریباً 40 سے 50 منٹ کردیا تھا۔
والدین کا کہنا ہے کہ انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ رواں تعلیمی سال میں روٹ میں دوبارہ ایسی تبدیلی کیوں کی گئی جس کے نتیجے میں بچوں کا سفر دو گھنٹے سے بھی تجاوز کرگیا۔
ان کے اندازے کے مطابق خصوصی تعلیمی پروگرام میں تعلیم حاصل کرنے والے تقریباً 40 سے 50 طلبہ اس تبدیلی سے متاثر ہورہے ہیں۔
خصوصی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ متاثر
یہ بچے پکرنگ ہائی اسکول میں ایک خصوصی تعلیمی پروگرام میں شرکت کرتے ہیں جس کے آغاز کا وقت دیگر طلبہ سے مختلف ہے۔
والدین کا کہنا ہے کہ ان بچوں کو پہلے ہی اضافی تعلیمی اور روزمرہ چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے، ایسے میں روزانہ طویل بس سفر ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کررہا ہے۔
میرنا سمپسن کے دو جڑواں بچے گریڈ 11 میں زیر تعلیم ہیں اور روزانہ اسی بس پر سفر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق طویل سفر بچوں کی ذہنی صحت پر بھی اثر ڈال رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ایران کی جنگ کے اثرات: کینیڈا میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، ٹرانسپورٹ کا شعبہ بحران کا شکار
والدین کو جواب نہ ملنے کی شکایت
والدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے بس روٹ کی تبدیلی اور اس کے جائزے کے طریقہ کار کے بارے میں متعلقہ حکام سے کئی مرتبہ سوالات کیے، لیکن انہیں تسلی بخش جواب نہیں مل سکا۔
کرسٹین کینز نے کہا کہ والدین کو اپنے بچوں کے مسئلے پر توجہ دلانے کے لیے مختلف لوگوں سے رابطے کرنے پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق والدین کسی غیر معمولی چیز کا مطالبہ نہیں کررہے بلکہ چاہتے ہیں کہ مسئلے کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ والدین بار بار درخواستیں کر رہے ہیں کہ کچھ کیا جائے لیکن انہیں مناسب جواب تک نہیں مل رہا۔
ٹرانسپورٹ سروس کا مؤقف
ڈرہم اسٹوڈنٹ ٹرانسپورٹیشن سروسز نے بتایا کہ روٹ میں تبدیلی پکرنگ ہائی اسکول کے خصوصی پروگرام کی وجہ سے کی گئی ہے۔
ادارے کے مطابق جنوبی اجیکس سے محدود تعداد میں طلبہ پکرنگ ہائی اسکول کے خصوصی پروگرام میں شرکت کرتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ سروس کا کہنا ہے کہ وہ تمام اہل طلبہ کو محفوظ اور مؤثر سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور بس کے سفر کا دورانیہ کم کرنے کے لیے دستیاب آپشنز کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے۔
زیادہ تر طلبہ کا سفر مختصر
ٹرانسپورٹ حکام کے مطابق ڈرہم اسٹوڈنٹ ٹرانسپورٹیشن سروس استعمال کرنے والے زیادہ تر طلبہ کا بس سفر 20 منٹ سے بھی کم ہوتا ہے۔
ادارے کے مطابق صرف 0.2 فیصد طلبہ ایسے ہیں جن کا بس سفر 60 منٹ سے زیادہ ہے۔ تاہم والدین کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کے لیے موجودہ صورتحال معمول کے اعداد و شمار سے مختلف ہے کیونکہ خصوصی تعلیمی پروگرام میں شامل طلبہ کو روزانہ طویل سفر کرنا پڑ رہا ہے۔
صوبائی حکومت پر فنڈنگ کا سوال
اجیکس سے لبرل ایم پی پی روب سرجانیک نے بھی والدین کے خدشات کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ متاثرہ طلبہ کے معاملے کو متعلقہ حکام کے سامنے اٹھا رہے ہیں۔
ان کے مطابق بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ صوبائی حکومت طلبہ کی ٹرانسپورٹ کے لیے اتنی فنڈنگ فراہم نہیں کرتی جتنی ضرورت ہے، جس کے نتیجے میں اسکول بورڈز کو مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں اور اس کا بوجھ بالآخر والدین اور طلبہ کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
وزارت تعلیم سے رابطے کا فیصلہ
والدین کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر خاموش نہیں بیٹھیں گے اور بس روٹ میں تبدیلی کے حوالے سے مزید وضاحت حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔
ایک والدین نے بتایا کہ وہ اونٹاریو کی وزارت تعلیم سے بھی رابطہ کریں گی تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ صوبائی سطح پر اس مسئلے کے حل کے لیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔
والدین کی بنیادی درخواست ہے کہ بچوں کے طویل سفری دورانیے کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور ایسا انتظام کیا جائے جس سے خصوصی تعلیمی پروگرام میں شامل طلبہ کو روزانہ دو گھنٹے سے زائد بس میں گزارنے کی ضرورت نہ پڑے۔
