کینیڈا کا اصل امتحان شروع، امریکا سے تجارتی جنگ نے معیشت کا رخ بدل دیا

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا اس وقت اپنی جدید معاشی تاریخ کے ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جہاں مسئلہ صرف امریکا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع نہیں بلکہ پورے معاشی ماڈل کی سمت کا ہے۔

برسوں تک کینیڈا کی معیشت امریکی منڈی، امریکی سرمایہ کاری اور سرحد پار سپلائی چینز کے ساتھ گہرائی سے جڑی رہی، مگر اب یہی انحصار ایک بڑے معاشی دباؤ میں تبدیل ہو رہا ہے۔ مارک کارنی کی حکومت نے امریکا کے ساتھ سخت مذاکرات، جوابی ٹیرف اور نئی عالمی منڈیوں کی تلاش کو اپنی حکمت عملی کا حصہ بنایا ہے۔

امریکا سے نیا محاذ

ستمبر میں کینیڈا نے امریکی مصنوعات پر تقریباً 28 ارب ڈالر کے جوابی ٹیرف نافذ کیے۔ یہ اقدام واشنگٹن کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر نئے 50 فیصد ٹیرف کے بعد سامنے آیا۔ یوں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اختلاف محض بیانات اور مذاکرات تک محدود نہیں رہا بلکہ کاروبار اور صارفین تک براہ راست پہنچ چکا ہے۔

کارنی کا مشکل فیصلہ

پریمیئر مارک کارنی نے واضح کیا ہے کہ امریکا سے دوری کی قیمت ضرور ہوگی، لیکن حکومت کا مؤقف ہے کہ طویل مدت میں معاشی تنوع ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اوٹاوا اب یورپ، ایشیا اور دیگر عالمی منڈیوں کے ساتھ تجارت بڑھانے پر زور دے رہا ہے۔

یہ تبدیلی آسان نہیں۔ امریکا کینیڈا کا سب سے اہم تجارتی شراکت دار ہے، اس لیے اچانک متبادل منڈیاں پیدا کرنا ممکن نہیں۔ لیکن موجودہ کشیدگی نے کینیڈا کے سامنے یہ سوال ضرور کھڑا کردیا ہے کہ ایک ہی بڑی منڈی پر اتنا انحصار مستقبل میں کس حد تک محفوظ ہے۔

معیشت میں بیک وقت دو دباؤ

کینیڈین معیشت کو اس وقت ایک عجیب صورتحال کا سامنا ہے۔ دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی کی سالانہ شرح سے 3.3 فیصد نمو ریکارڈ ہوئی، لیکن بینک آف کینیڈا کے مطابق امریکی ٹیرف اور تجارتی غیر یقینی صورتحال آئندہ نمو کے لیے خطرہ ہیں۔

دوسری طرف مہنگائی بھی تقریباً 3 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بینک کا ہدف 2 فیصد ہے۔ توانائی کی بلند قیمتیں اس دباؤ میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ یوں کینیڈا کو ایک طرف سست معاشی سرگرمی کا خدشہ ہے اور دوسری طرف مہنگائی دوبارہ بڑھنے کا خطرہ۔

شرح سود کا سوال

بینک آف کینیڈا نے ستمبر میں شرح سود 2.25 فیصد پر برقرار رکھی۔ مرکزی بینک کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ ٹیرف معاشی ترقی کو کم کرسکتے ہیں، لیکن مہنگی توانائی اور دیگر لاگت مہنگائی کو اوپر رکھ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کینیڈا کی معیشت میں 2004 کے بعد سب سے تیز رفتار ترقی، تجارتی جنگ کے اثرات سے نمٹنے میں مدد ملنے کا امکان

اگر مہنگائی طویل عرصے تک ہدف سے اوپر رہتی ہے تو شرح سود کے بارے میں فیصلے مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں، جبکہ زیادہ شرح سود گھرانوں، کاروبار اور ہاؤسنگ مارکیٹ پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے۔

اب نظریں کینیڈا کی اپنی طاقت پر

کارنی حکومت نے بڑے انفراسٹرکچر، توانائی اور قدرتی وسائل کے منصوبوں کی منظوری کا عمل تیز کرنے کے لیے نئی قانون سازی بھی متعارف کرائی ہے۔ مجوزہ نظام میں بڑے منصوبوں کے وفاقی جائزے کے لیے ایک سال کی مدت مقرر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ اقدام اس لیے اہم ہے کہ کینیڈا کے پاس قدرتی وسائل، توانائی، معدنیات اور زرعی پیداوار کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ اصل چیلنج ان وسائل کو تیزی سے عالمی منڈیوں تک پہنچانا اور نئی سرمایہ کاری حاصل کرنا ہے۔

ایشیا اور یورپ کی طرف رخ

کینیڈا اب امریکا کے علاوہ دیگر خطوں میں بھی معاشی مواقع تلاش کررہا ہے۔ فلپائن اور آسیان کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں پیش رفت، ایشیائی منڈیوں میں ایل این جی برآمدات اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں وسعت اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

لیکن نئی منڈیاں امریکی مارکیٹ کا فوری متبادل نہیں بن سکتیں۔ اس عمل میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور کینیڈین کمپنیوں کو نئی سپلائی چینز، نئے معیار اور نئی تجارتی شرائط کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔

اصل لڑائی کہاں ہے؟

کینیڈا کی موجودہ صورتحال کو صرف امریکا بمقابلہ کینیڈا کی تجارتی جنگ سمجھنا شاید کافی نہیں۔ اصل لڑائی کینیڈا کے معاشی مستقبل کی ہے۔

ایک راستہ وہ ہے جس میں کینیڈا امریکی منڈی کے ساتھ تعلق برقرار رکھتے ہوئے اختلافات کم کرنے کی کوشش کرے۔ دوسرا راستہ عالمی سطح پر تجارت کو وسیع کرنے اور امریکا پر انحصار کم کرنے کا ہے۔ موجودہ حکومت بیک وقت دونوں راستوں پر چلنے کی کوشش کررہی ہے۔

اگلے چند ماہ فیصلہ کن

آنے والے مہینوں میں تین چیزیں خاص اہمیت رکھیں گی: امریکی ٹیرف کا کاروبار اور روزگار پر اثر، کینیڈا کی نئی عالمی تجارتی شراکت داریوں کی رفتار، اور مہنگائی و شرح سود کی سمت۔

کینیڈا کی معیشت ابھی کسی ایک نتیجے پر نہیں پہنچی۔ دوسری سہ ماہی کی مضبوط نمو امید دلاتی ہے، لیکن بینک آف کینیڈا خود خبردار کرچکا ہے کہ نئے امریکی ٹیرف نمو کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

یوں کینیڈا کے سامنے اصل چیلنج صرف واشنگٹن سے مذاکرات جیتنا یا ہارنا نہیں، بلکہ ایسا معاشی ڈھانچہ بنانا ہے جو مستقبل میں کسی ایک ملک کی پالیسی تبدیلی سے پوری طرح متاثر نہ ہو۔ یہی تبدیلی آنے والے عرصے میں کینیڈا کی معاشی سمت کا سب سے اہم امتحان بن سکتی ہے۔

ہمیں فالو کریں