اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ ان کا ملک یورپی یونین کے ساتھ ایک ’’منفرد اتحاد‘‘ قائم کرنے کے لیے بات چیت شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے اور اوٹاوا اپنی معیشت اور خارجہ تعلقات کو امریکا پر ضرورت سے زیادہ انحصار سے نکالنے کی کوشش کررہا ہے۔
کارنی نے اتوار کو ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ کینیڈا کا یورپی یونین میں شامل ہونے کا کوئی منصوبہ نہیں۔
’رکن بننے کا ارادہ نہیں‘
مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا یورپی یونین کا رکن بننے کی کوشش نہیں کررہا بلکہ دونوں فریق ایک ایسے تعلق پر بات چیت شروع کرنا چاہتے ہیں جسے وہ ’’منفرد اتحاد‘‘ قرار دے رہے ہیں۔
ان کے مطابق کینیڈا اور یورپی یونین کی اقدار اور ترجیحات ایک دوسرے سے کافی حد تک ملتی ہیں جبکہ دونوں کے پاس ایسی صلاحیتیں موجود ہیں جو ایک دوسرے کے لیے معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔
کارنی رواں ہفتے یورپ کا دورہ کرنے والے ہیں اور جمعرات کی صبح یورپی پارلیمنٹ سے خطاب بھی کریں گے، جہاں کینیڈا اور یورپ کے درمیان مستقبل کے تعلقات مزید اہم موضوع بننے کی توقع ہے۔
28ویں ریاست کی بات
کارنی کا یہ بیان امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کینیڈا یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کے بلاک میں ’’ایسوسی ایٹ ممبر‘‘ کا درجہ حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
رپورٹ میں فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب کے ایک بیان کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کیا یہ اچھا نہ ہوگا کہ کینیڈا امریکا کی 51ویں ریاست بننے کے بجائے یورپی یونین کی 28ویں ریاست بن جائے۔
یہ بھی پڑھیں :البرٹا میں کینیڈا سے علیحدگی کا ریفرنڈم، مارک کارنی کی موجودگی نے مہم میں نئی بحث چھیڑ دی
اس بیان اور رپورٹ کے بعد کینیڈا کی کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ پیئر پوئیلیور اور دیگر ارکان پارلیمنٹ نے سوشل میڈیا پر حکومت سے وضاحت طلب کی اور کہا کہ کینیڈین شہریوں کو یورپی یونین کی ’’28ویں ریاست‘‘ بننے کے تصور پر تشویش ہونی چاہیے۔
مکمل رکنیت زیر بحث رہی
اگرچہ کینیڈا کی جانب سے یورپی یونین میں مکمل رکنیت کی کوئی باضابطہ درخواست نہیں کی گئی، تاہم یہ خیال گزشتہ کچھ عرصے کے دوران یورپی سیاست اور میڈیا میں زیر بحث ضرور رہا ہے۔
فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے رواں سال مارچ میں ایک یورپی کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ شاید کسی وقت کینیڈا یورپی یونین کا حصہ بن سکتا ہے۔ ان کے بیان پر کانفرنس میں ہنسی اور تالیاں بھی بجائی گئی تھیں۔
تاہم کارنی اس سے پہلے بھی واضح کرچکے ہیں کہ یورپی یونین کی رکنیت کینیڈا کے ایجنڈے میں شامل نہیں۔ انہوں نے جون 2025 میں کہا تھا کہ کینیڈا یورپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو زیادہ وسیع اور واضح انداز میں مضبوط بنانا چاہتا ہے، لیکن رکن بننے کے بجائے دونوں کے درمیان تعاون کی ایک مختلف سطح قائم کی جاسکتی ہے۔
’ایسوسی ایٹ ممبر‘ کیا ہے؟
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں جس ’’ایسوسی ایٹ ممبر‘‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی، وہ یورپی یونین کے قانون میں کوئی باقاعدہ قانونی حیثیت نہیں رکھتی۔
ایک سینئر کینیڈین عہدیدار نے بتایا کہ حکومت نے یورپی یونین کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے لیے مختلف ناموں اور ماڈلز پر غور کیا ہے، جن میں ’’ایسوسی ایٹ ممبر‘‘ بھی شامل ہے، لیکن یہ اصطلاح کینیڈا نے یورپی یونین کے سامنے باضابطہ طور پر پیش نہیں کی۔
عہدیدار کے مطابق حکومت ابھی اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ دونوں کے درمیان مستقبل کا تعلق کس شکل میں ہوسکتا ہے اور اکتوبر کے آخر میں ہونے والی کینیڈا، یورپی یونین سربراہی ملاقات تک اس کی مزید وضاحت سامنے آنے کی توقع ہے۔
ناروے اور برطانیہ کا ماڈل کیوں نہیں؟
کینیڈین حکومت نے یورپی یونین سے باہر رہنے والے ممالک ناروے، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور جارجیا کے ساتھ یورپی بلاک کے تعلقات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا ہے۔
حکومتی عہدیدار کے مطابق ان میں سے کوئی بھی ماڈل کینیڈا کے لیے مکمل طور پر موزوں نہیں، کیونکہ اوٹاوا یورپی منڈی تک بہتر رسائی کے بدلے اپنی خودمختاری یا آزادی پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا۔
معاشی اور دفاعی شراکت
کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان پہلے ہی تجارتی اور سیاسی تعاون موجود ہے۔ دونوں کے درمیان جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ سیٹا (CETA) موجود ہے، تاہم اس کا نفاذ اب تک مکمل طور پر نہیں ہوسکا۔
اس کے علاوہ دونوں فریقوں کے درمیان اسٹریٹجک پارٹنرشپ ایگریمنٹ بھی موجود ہے، جبکہ جون 2025 میں کینیڈا اور یورپی یونین نے سکیورٹی اور دفاع کے شعبے میں بھی شراکت داری کا معاہدہ کیا تھا۔
کارنی نے 22 اگست کو کہا تھا کہ دونوں فریق موسم خزاں میں سکیورٹی اور معیشت کے شعبوں میں ایک زیادہ مضبوط اور گہری شراکت داری قائم کرنے پر بات کریں گے۔
’منفرد‘ تعلق کی تلاش
وزیراعظم کارنی اور کینیڈا میں یورپی یونین کی سفیر جنیویو ٹٹس دونوں نے مجوزہ تعلق کے لیے ’’منفرد‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے، تاہم اس کی عملی شکل کے بارے میں ابھی بہت کم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
کینیڈین حکومت ایک ایسا راستہ تلاش کرنا چاہتی ہے جس سے یورپ کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، دفاع اور سکیورٹی تعاون میں اضافہ ہو، لیکن ساتھ ہی کینیڈا اپنی خودمختاری بھی برقرار رکھے۔
اس لیے کارنی حکومت کے لیے یورپی یونین کے ساتھ یہ نیا ’’منفرد اتحاد‘‘ ایک ایسے وقت میں اہم سفارتی اور معاشی منصوبہ بن گیا ہے جب امریکا کے ساتھ تعلقات میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے اور کینیڈا اپنے لیے نئے عالمی شراکت دار تلاش کررہا ہے۔
