10 روپے کا کرنسی نوٹ مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ، نئے نوٹوں کے ڈیزائن فائنل ہونے کے قریب

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وفاقی حکومت نے ملک میں 10 روپے کے کرنسی نوٹ کو مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک حکام نے بتایا ہے کہ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کو حتمی شکل دینے کا عمل جاری ہے۔

یہ معاملہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں زیر بحث آیا، جہاں نئے کرنسی نوٹوں کی تیاری، جعلی نوٹوں کی روک تھام اور موجودہ نوٹوں کی لاگت سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

جعلی نوٹ کا معاملہ

اجلاس کے دوران قائمہ کمیٹی خزانہ کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے اسٹیٹ بینک کے حکام کو جعلی کرنسی کی روک تھام کے حوالے سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً دو سال قبل انہوں نے اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر کو 5 ہزار روپے کے تین نوٹ دیے تھے، جن میں سے ایک جعلی تھا، تاہم اسٹیٹ بینک کے حکام اس جعلی نوٹ کی شناخت نہیں کرسکے۔

دو سال بعد بھی نوٹ واپس نہ ہوئے

سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ دو سال گزرنے کے باوجود اسٹیٹ بینک نے انہیں 5 ہزار روپے کے وہ تینوں نوٹ واپس نہیں کیے۔

چیئرمین کمیٹی کے اس بیان پر اجلاس میں دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی اور ان کے ریمارکس پر کمیٹی ارکان سمیت شرکا کے قہقہے گونج اٹھے۔

نئے نوٹوں کے ڈیزائن کا عمل

سلیم مانڈوی والا نے اجلاس میں کہا کہ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کے لیے کنسلٹنٹ کو چھپائی کا کنٹریکٹ دیا جاچکا ہے، تاہم اسٹیٹ بینک گزشتہ دو سال سے نئے کرنسی نوٹ تیار نہیں کرسکا۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اسٹیٹ بینک کی صورتحال تو حکومت سے بھی خراب نظر آتی ہے، کیونکہ نئے نوٹوں کے ڈیزائن کا عمل غیر معمولی طور پر طویل ہوتا جارہا ہے۔

20 سال بعد نیا 5 ہزار کا نوٹ

اسٹیٹ بینک حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ 5 ہزار روپے کا کرنسی نوٹ تقریباً 20 سال قبل تیار کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان میں نئے کرنسی نوٹوں سےمتعلق اہم پیشرفت سامنے آگئ

حکام کے مطابق اب نئے نوٹوں کا ڈیزائن اس انداز میں تیار کیا جارہا ہے کہ انہیں آئندہ 20 سال تک استعمال کیا جاسکے۔ نئے ڈیزائن میں جدید سیکیورٹی فیچرز شامل کرنے پر بھی توجہ دی جارہی ہے تاکہ جعلی کرنسی کی روک تھام میں مدد مل سکے۔

10 روپے کے نوٹ پر اہم فیصلہ

اسٹیٹ بینک حکام نے بتایا کہ 10 روپے کے کرنسی نوٹ کو مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اس مالیت کے نوٹ کی تیاری پر آنے والی لاگت اس کے مالی فائدے کے مقابلے میں زیادہ ہے، اسی لیے اسے بتدریج گردش سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکام نے واضح کیا کہ 10 روپے کے نوٹ کو فوری طور پر ختم نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے مرحلہ وار گردش سے نکالا جائے گا۔

نوٹوں میں جدید سیکیورٹی فیچرز

اسٹیٹ بینک حکام کے مطابق نئے کرنسی نوٹوں میں جدید سیکیورٹی فیچرز شامل کیے جارہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد جعلی نوٹوں کی تیاری کو مشکل بنانا اور عوام و مالیاتی اداروں کے لیے اصلی اور جعلی کرنسی میں فرق کرنا آسان بنانا ہے۔

حکام نے بتایا کہ نئے نوٹوں کے ڈیزائن کو حتمی شکل دینے کا عمل کابینہ کی متعلقہ کمیٹی کے ذریعے مکمل کیا جارہا ہے۔

اے آئی استعمال کرنے کا مشورہ

کمیٹی کی رکن انوشہ رحمان نے سوال اٹھایا کہ اسٹیٹ بینک نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کی تیاری کے عمل میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا استعمال کیوں نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہر مرحلے پر ڈیزائن کو مختلف ذیلی کمیٹیوں سے منظور کرایا جائے گا تو اس عمل میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔

انوشہ رحمان نے خدشہ ظاہر کیا کہ کئی ماہ ڈیزائن کی منظوری میں صرف ہوجائیں گے اور اگر کابینہ کمیٹی نے کسی مرحلے پر تبدیلی کی ہدایت کردی تو معاملہ دوبارہ ذیلی کمیٹی کے پاس جاسکتا ہے۔

سلیم مانڈوی والا کا دلچسپ تبصرہ

سلیم مانڈوی والا نے نوٹوں کے ڈیزائن میں تاخیر پر دلچسپ انداز میں کہا کہ جس رفتار سے نئے نوٹوں کا ڈیزائن تیار کیا جارہا ہے، خدشہ ہے کہ کمیٹی کے ارکان کی مدت ختم ہوجائے گی لیکن نئے نوٹ مارکیٹ میں نہیں آسکیں گے۔

ان کے اس تبصرے سے اجلاس کا ماحول ایک بار پھر دلچسپ ہوگیا۔

نئے نوٹوں کی لاگت بھی زیر بحث

اسٹیٹ بینک حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 5 ہزار اور ایک ہزار روپے کے نوٹ کی تیاری پر تقریباً 14 روپے لاگت آتی ہے۔

حکام کے مطابق نئے نوٹوں کی تیاری میں لاگت، پائیداری اور سیکیورٹی فیچرز سمیت مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھا جارہا ہے تاکہ مستقبل کی ضروریات کو بھی پورا کیا جاسکے۔

کرنسی نظام میں تبدیلی کا امکان

نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کی تکمیل اور 10 روپے کے نوٹ کو مرحلہ وار گردش سے نکالنے کا فیصلہ ملک کے کرنسی نظام میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جارہا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق نئے نوٹوں میں جدید سیکیورٹی خصوصیات شامل کرکے جعلی کرنسی کے مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ کم مالیت کے ایسے نوٹ جن کی تیاری معاشی طور پر مہنگی پڑتی ہے، ان کے مستقبل پر بھی نظرثانی کی جارہی ہے۔

تاہم نئے نوٹ کب جاری ہوں گے اور 10 روپے کے موجودہ نوٹ کو مکمل طور پر گردش سے کب نکالا جائے گا، اس حوالے سے حتمی تاریخ ابھی سامنے نہیں آئی۔

ہمیں فالو کریں