اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں جنگلات کی ایک بے قابو آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی اور خوف کی صورتحال پیدا کردی ہے، جہاں سمرلینڈ اور گردونواح سے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا، جبکہ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ آگ سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران 80 سالہ خاتون جان کی بازی ہار گئی۔
آگ اچانک بھڑک اٹھی
حکام کے مطابق بالڈ رینج وائلڈ فائر جمعہ کی شام تقریباً 5 بجے سمرلینڈ شہر سے لگ بھگ 15 کلومیٹر کے فاصلے پر شروع ہوئی۔ خشک موسم، شدید گرمی اور تیز ہواؤں کے باعث آگ نے انتہائی تیزی سے پھیلنا شروع کیا، جس کے بعد حکام کو متعدد علاقوں میں فوری انخلا کے احکامات جاری کرنا پڑے۔
آگ کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ بعض علاقوں سے شہریوں کو نکالنے کے لیے فائر فائٹنگ ہیلی کاپٹرز بھی استعمال کیے گئے۔ کئی خاندانوں کو اپنا گھر، مال مویشی اور دیگر سامان چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب روانہ ہونا پڑا۔
80 سالہ خاتون جاں بحق
پینٹکٹن آر سی ایم پی نے اتوار کو تصدیق کی کہ جنگلات کی آگ کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق 80 سالہ خاتون اپنے خاندان کے ہمراہ آگ سے بچنے کے لیے علاقہ چھوڑنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ اچانک ان کی موت واقع ہوگئی۔
آر سی ایم پی کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر پولیس کو یقین ہے کہ خاتون کی موت جنگلات میں لگی آگ کے نتیجے میں ہوئی۔ تاہم برٹش کولمبیا کورونرز سروس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔پولیس نے واضح کیا کہ فی الحال آگ سے متعلق کسی اور ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔
12 ہزار افراد متاثر
اتوار تک بالڈ رینج فائر تقریباً 136 مربع کلومیٹر رقبے تک پھیل چکی تھی۔ حکام کے مطابق سمرلینڈ کے تقریباً 12 ہزار رہائشیوں اور جنوبی پیچ لینڈ سمیت گردونواح کے متعدد علاقوں کے لوگوں کو انخلا کے احکامات کا سامنا ہے۔
پیچ لینڈ کے باقی علاقوں، سمرلینڈ کے جنوب اور پینٹکٹن کے مغربی علاقوں میں بھی شہریوں کو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ پینٹکٹن انڈین بینڈ نے بھی صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔
سمرلینڈ کا مرکزی علاقہ محفوظ
سمرلینڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ شہر کا مرکزی اور کاروباری علاقہ اب تک بڑی تباہی سے محفوظ رہا ہے۔ سمرلینڈ کے چیف ایڈمنسٹریٹو آفیسر گراہم اسٹاٹ کے مطابق انہوں نے رات گئے شہر کے مرکزی علاقے کا جائزہ لیا اور وہاں عمارتیں بڑی حد تک محفوظ نظر آئیں۔
تاہم سمرلینڈ کے میئر ڈگ ہومز نے خبردار کیا کہ علاقے میں کچھ ڈھانچوں کے تباہ ہونے کی اطلاعات موجود ہیں، لیکن نقصان کی حتمی تعداد ابھی معلوم نہیں ہوسکی۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کی لائنیں متاثر ہوئی ہیں جبکہ پانی کی فراہمی بھی آلودہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی وجہ سے شہریوں کی فوری واپسی ممکن نہیں۔
واپسی کا منصوبہ زیر غور
حکام کے مطابق رہائشیوں کو مرحلہ وار واپس لانے کی منصوبہ بندی شروع کردی گئی ہے، تاہم اس عمل میں انفراسٹرکچر اور عوامی تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
کچھ افراد، خصوصاً مویشیوں کی دیکھ بھال سے وابستہ لوگوں کو اپنے جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے محدود اور عارضی رسائی دی گئی ہے۔
شہریوں کی مشکلات میں اضافہ
آگ سے اٹھنے والے شدید دھوئیں نے سمرلینڈ، پینٹکٹن اور آس پاس کے علاقوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ دھوئیں کی وجہ سے کیلونا ایئرپورٹ پر متعدد پروازیں منسوخ کرنا پڑیں۔
اندر ہیلتھ کے مطابق ادارے نے سمرلینڈ کے 200 سے زائد رہائشیوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ خاندانوں کو اپنے بچھڑے ہوئے افراد سے دوبارہ رابطے میں مدد دینے کے لیے ہیلپ لائن بھی قائم کی گئی ہے۔
پینٹکٹن میں متاثرین کے لیے مرکز
بے گھر ہونے والے متعدد افراد نے پینٹکٹن میں پناہ لی ہے، جہاں متاثرین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ریسورس ہب قائم کیا گیا ہے۔ رہائش کی محدود سہولیات کے باعث حکام نے متاثرین سے اپیل کی ہے کہ اگر ممکن ہو تو وہ عارضی طور پر دوستوں یا رشتہ داروں کے ہاں قیام کریں۔
بعض شہریوں کے لیے علاقہ چھوڑنے کا فیصلہ انتہائی مشکل ثابت ہوا۔ سمرلینڈ میں کئی دہائیوں سے مقیم افراد نے اپنے گھروں، جانوروں اور جائیدادوں کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مویشیوں کے لیے بھی خطرہ
سمرلینڈ کے قریب رہنے والی لیہ گِبز نے بتایا کہ جب انہوں نے ہیلی کاپٹر کو ان کے خاندان کی زمین سے پانی بھرتے دیکھا تو انہیں اندازہ ہوا کہ صورتحال انتہائی سنگین ہوچکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :برٹش کولمبیا میں جنگلاتی آگ بے قابو، صوبے میں ایمرجنسی نافذ، 22 ہزار افراد کا انخلا
انہوں نے بتایا کہ علاقے سے نکلتے وقت گھوڑے آگ اور دھوئیں کے درمیان بھاگتے دکھائی دیے۔ ان کے مطابق یہ منظر انتہائی تکلیف دہ تھا کیونکہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ جانور زندہ بچیں گے یا نہیں اور واپسی پر ان کا گھر موجود ہوگا یا نہیں۔
آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری
بالڈ رینج وائلڈ فائر پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹرز اور دیگر امدادی ٹیموں کی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا۔
برٹش کولمبیا وائلڈ فائر سروس کے مطابق جنوبی اندرونی علاقوں میں خشک سالی کی شدت انتہائی بلند سطح پر ہے، جس کے باعث آگ کے پھیلاؤ کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
فائر آپریشن کی انچارج نکول بونیٹ کے مطابق اوکاناگن کے علاقے میں خشک سالی آگ کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہے۔ رات کے وقت نمی میں جس بہتری کی توقع کی جارہی تھی، وہ بھی مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکی۔
تیز ہواؤں سے خطرہ بڑھنے کا خدشہ
فائر سروس نے خبردار کیا ہے کہ اگر آسمان صاف ہوا اور ہواؤں کی رفتار بڑھی تو آگ کے رویے میں نمایاں شدت آسکتی ہے۔ حکام کی توجہ فی الحال فِش لیک اور گارنیٹ ویلی کے درمیان موجود علاقے میں آگ کو مزید پھیلنے سے روکنے پر مرکوز ہے، جبکہ جنوب کی جانب آگ کا پھیلاؤ بھی بدستور تشویش کا باعث ہے۔
صوبے بھر میں ہنگامی صورتحال
بالڈ رینج فائر کے علاوہ برٹش کولمبیا کے دیگر علاقوں میں بھی جنگلات کی آگ نے بڑے پیمانے پر آبادی کو متاثر کیا ہے۔ صوبے بھر میں تقریباً 13 ہزار 200 املاک انخلا کے احکامات کے تحت ہیں، جبکہ مزید تقریباً 5 ہزار 800 املاک کے لیے انخلا کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ انخلا کے احکامات پر سختی سے عمل کریں اور خطرناک علاقوں میں واپس جانے یا وہیں رکنے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ آگ کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہوسکتی ہے اور امدادی کارروائیوں میں بھی رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔