اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا اور امریکا کے درمیان نئے محصولات سے بچنے کے لیے جاری تجارتی مذاکرات کے دوران ایک نئی اقتصادی رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کے درمیان تجارتی معاہدہ (CUSMA) ختم ہوا تو دونوں ممالک میں لاکھوں ملازمتیں متاثر ہوسکتی ہیں جبکہ معیشت کو بھی بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
کینیڈین امریکن بزنس کونسل کے لیے آکسفورڈ اکنامکس کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ میں امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کے تین ممکنہ منظرناموں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
تین ممکنہ منظرنامے
رپورٹ میں پہلا منظرنامہ موجودہ صورتحال برقرار رہنے کا ہے، جس میں موجودہ محصولات نافذ رہیں گے۔ دوسرے منظرنامے میں CUSMA معاہدہ ختم ہونے کی صورت میں ممکنہ معاشی اثرات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ تیسرے منظرنامے میں کامیاب مذاکرات کے ذریعے معاہدے کی تجدید اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں بہتری کو شامل کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر CUSMA ختم ہوگیا تو موجودہ صورتحال کے مقابلے میں امریکا میں تقریباً 2 لاکھ 14 ہزار جبکہ کینیڈا میں 1 لاکھ 2 ہزار ملازمتیں ختم ہوسکتی ہیں۔
کامیاب معاہدے سے روزگار میں اضافہ
اس کے برعکس اگر دونوں ممالک کامیابی سے نیا تجارتی معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تو روزگار کے مواقع میں اضافہ متوقع ہے۔رپورٹ کے تخمینے کے مطابق بہتر تجارتی تعلقات کی صورت میں امریکا میں تقریباً 1 لاکھ 37 ہزار جبکہ کینیڈا میں 98 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوسکتی ہیں۔
کینیڈین امریکن بزنس کونسل کی چیف ایگزیکٹو بیتھ برک نے کہا کہ یہ اعدادوشمار محض معاشی تخمینے نہیں بلکہ حقیقی لوگوں کی ملازمتوں، معاشی تحفظ اور مستقبل سے متعلق ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :امریکا سے تجارتی مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل، کینیڈا کو نئے ٹیرف کے خطرے کا سامنا
ان کے مطابق ایسے وقت میں جب دونوں ممالک میں عوام کے لیے مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی پہلے ہی اہم مسئلہ بن چکے ہیں، تجارتی تعلقات میں مزید خرابی کے اثرات عام شہریوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
کھربوں ڈالر کا معاشی نقصان
رپورٹ میں صرف روزگار کے نقصان کی نشاندہی نہیں کی گئی بلکہ دونوں ممالک کی مجموعی معیشت پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا بھی اندازہ لگایا گیا ہے۔
تخمینے کے مطابق اگر CUSMA ختم ہوگیا تو 2035 تک امریکی معیشت کو تقریباً 1.04 ٹریلین امریکی ڈالر جبکہ کینیڈین معیشت کو 271 ارب کینیڈین ڈالر کا نقصان ہوسکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تجارتی تعلقات میں بگاڑ سے دونوں ممالک میں مہنگائی کی رفتار بڑھ سکتی ہے، جبکہ حقیقی قابلِ استعمال آمدنی میں اضافے کی شرح متاثر ہوگی۔ کینیڈا میں اس کا اثر نسبتاً زیادہ نمایاں ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
امریکا میں صنعتیں زیادہ متاثر ہوں گی
CUSMA کے خاتمے کی صورت میں امریکا کے مینوفیکچرنگ شعبے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔رپورٹ کے مطابق آٹو موبائل، لکڑی سے بنی مصنوعات اور دھات کی مصنوعات تیار کرنے والی صنعتیں خاص طور پر متاثر ہوسکتی ہیں۔ آئیووا، مشی گن، کینٹکی اور الاباما جیسی ریاستیں، جہاں مینوفیکچرنگ کا شعبہ نمایاں ہے، تجارتی رکاوٹوں کے اثرات زیادہ محسوس کرسکتی ہیں۔
کینیڈا میں اونٹاریو اور کیوبیک متاثر
کینیڈا میں بھی مینوفیکچرنگ صنعت کو سب سے بڑا دھچکا لگنے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق اونٹاریو اور کیوبیک اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبوں میں شامل ہوں گے۔
دوسری جانب نئی امریکی محصولات کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے ایک الگ آکسفورڈ اکنامکس رپورٹ میں بھی کینیڈا کی مختلف صنعتی شعبوں کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔
اس تجزیے کے مطابق سیمنٹ اور کنکریٹ بنانے والے ادارے سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں، جبکہ کاغذی مصنوعات، لکڑی، کمپیوٹرز و الیکٹرانکس، پلاسٹک اور ربڑ سے متعلق صنعتیں بھی شدید دباؤ میں آسکتی ہیں۔
50 فیصد نئے محصولات کا خطرہ
تجارتی مذاکرات ایسے وقت میں جاری ہیں جب 19 اگست کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے۔ اس کے بعد کینیڈا کی متعدد مصنوعات پر 50 فیصد تک نئے امریکی محصولات عائد ہونے کا خدشہ ہے۔
ان مصنوعات میں شہد، پلائی ووڈ اور ہائیاسنتھ بلب سمیت مختلف اشیا شامل ہیں، جو مجموعی طور پر کینیڈا کی امریکا کو ہونے والی برآمدات کا تقریباً پانچ فیصد بنتی ہیں۔
کینیڈین حکام ان محصولات کو روکنے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مستحکم رکھنے کے لیے مسلسل مذاکرات کررہے ہیں۔
واشنگٹن میں مذاکرات جاری
کینیڈا کے وزیر تجارت ڈومینک لی بلانک اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دونوں حکام کے درمیان حالیہ عرصے میں یہ تیسری ملاقات ہے۔
ذرائع کے مطابق کینیڈین اور امریکی حکام ممکنہ تجارتی معاہدے کی تیاری کررہے ہیں جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے۔
کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی بھی واضح کرچکے ہیں کہ مذاکرات میں مختلف اسٹریٹجک شعبوں پر بات چیت جاری ہے اور حکومت نئے محصولات سے بچنے کے لیے معاہدے کی کوشش کررہی ہے۔
کاروباری طبقے کی نظریں مذاکرات پر
کینیڈین امریکن بزنس کونسل کی سربراہ بیتھ برک نے مذاکرات کے جاری رہنے کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کامیاب معاہدے کے لیے دونوں جانب سے لچک کا مظاہرہ ضروری ہوگا۔
ان کے مطابق مذاکرات کا بنیادی مقصد ایسا راستہ تلاش کرنا ہے جس سے دونوں ممالک کے لیے بہتر معاشی نتائج حاصل ہوں۔
رپورٹ کے نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی تعلقات صرف درآمدات اور برآمدات تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے روزگار، صنعتی پیداوار، مہنگائی، آمدنی اور مجموعی اقتصادی ترقی پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔
اسی لیے 19 اگست کی ممکنہ ٹیرف ڈیڈ لائن سے قبل ہونے والے مذاکرات کو دونوں ممالک کی کاروباری برادری اور صنعتوں کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے۔