اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)مشرقِ وسطیٰ میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگی صورتحال نے پاکستان کے لیے معاشی خطرات اور غیر یقینی میں اضافہ کر دیا ہے۔
اس صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان ششماہی اقتصادی جائزہ مذاکرات آن لائن جاری ہیں، جن میں ملکی معاشی صورتحال اور آئندہ بجٹ سے متعلق اہم امور زیرِ بحث ہیں۔
وزارتِ خزانہ کے حکام نے مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کو پاکستان کی موجودہ معاشی حالت اور آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق ٹیکس تجاویز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ حکام کے مطابق معاشی اشاریوں میں کچھ بہتری کے باوجود عالمی اور علاقائی حالات کے باعث غیر یقینی اور خطرات اب بھی برقرار ہیں۔
حکام نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے ملک میں مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے، تاہم بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کے مستحکم رہنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ مجوزہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے اور سپر ٹیکس کے خاتمے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں، تاہم ان اقدامات کو آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح تنخواہوں پر عائد انکم ٹیکس میں ممکنہ پانچ فیصد کمی کے لیے بھی آئی ایم ایف کی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ملک میں مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فروری 2026 میں بنیادی مہنگائی کی شرح سات اعشاریہ چھ فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ خوراک، ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث آنے والے مہینوں میں مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق رواں مالی سال میں معاشی شرحِ نمو کا ہدف چار اعشاریہ دو فیصد رکھا گیا تھا، تاہم اب اس کے تقریباً چار فیصد تک رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو امید ہے کہ ملکی معیشت کی شرحِ نمو تین اعشاریہ پچھتر فیصد سے چار اعشاریہ پچھتر فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ جون تک زرمبادلہ کے ذخائر اٹھارہ ارب ڈالر تک پہنچائے جائیں۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق اس وقت اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً سولہ اعشاریہ تین ارب ڈالر ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال ترسیلاتِ زر کا حجم تقریباً تینتالیس ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دو ارب ڈالر تک رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
آئندہ بجٹ میں کارپوریٹ شعبے اور امیر طبقے پر عائد سپر ٹیکس کے حوالے سے تبدیلیوں، پراپرٹی آمدن پر ٹیکس میں کمی اور پاکستانی برآمدات پر عائد ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان نئے مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے تاکہ معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔