اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا میں خسرہ کے کیسز میں ایک بار پھر تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں درجنوں نئے مریض سامنے آئے ہیں۔
صحت کے حکام کے مطابق ہفتے کے اختتام پر مزید چھتیس نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد رواں سال صوبے میں خسرہ کے مریضوں کی مجموعی تعداد ایک سو پچاس سے تجاوز کر گئی ہے۔
صوبائی محکمۂ صحت کے مطابق زیادہ تر نئے کیسز جنوبی علاقے میں سامنے آئے ہیں، تاہم ایڈمنٹن، کیلگری اور شمالی علاقوں میں بھی اس بیماری کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس وقت البرٹا ملک میں خسرہ کے بڑے پھیلاؤ کا سامنا کرنے والے صوبوں میں شامل ہے، جبکہ اس معاملے میں سب سے زیادہ متاثر صوبہ مانیٹوبا ہے۔
ماہرینِ امراضِ اطفال کے مطابق اس وبا کے زیادہ تر مریض وہ افراد ہیں جنہیں حفاظتی ٹیکے نہیں لگوائے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال رپورٹ ہونے والے نوے فیصد سے زیادہ مریض ایسے ہیں جنہوں نے خسرہ سے بچاؤ کی ویکسین نہیں لگوائی۔ خاص طور پر ایسے بچوں میں بیماری زیادہ دیکھی جا رہی ہے جو ویکسین لگوانے کی عمر تک پہنچ چکے ہیں مگر انہیں ٹیکے نہیں لگوائے گئے۔
ہنگامی طبی خدمات سے وابستہ ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ وہ اکثر ایسے والدین سے بات کرتے ہیں جو اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے سے گریز کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جب انہیں بچوں کو درپیش ممکنہ خطرات کے بارے میں واضح انداز میں بتایا جاتا ہے تو اکثر والدین کو احساس ہوتا ہے کہ یہ بیماری دراصل قابلِ بچاؤ ہے۔
صحت کے حکام کے مطابق اس سال کینیڈا میں خسرہ کے زیادہ تر کیسز البرٹا اور مانیٹوبا میں سامنے آئے ہیں۔ مانیٹوبا میں اب تک دو سو انہتر مریض رپورٹ ہو چکے ہیں، جو ملک میں سب سے بڑا پھیلاؤ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض دیہی علاقوں، شمالی کمیونٹیوں اور ایسے گروہوں میں جہاں ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات زیادہ ہیں، وہاں بیماری کے پھیلنے کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق مانیٹوبا میں جو صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے وہ بڑی حد تک البرٹا جیسی ہی ہے۔
صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، تاہم زیادہ تر کیسز چھوٹے گروہوں اور خاندانوں تک محدود ہیں اور وسیع پیمانے پر کمیونٹی میں پھیلاؤ ابھی نہیں دیکھا جا رہا۔ عوام کو خبردار کرنے اور حفاظتی اقدامات بڑھانے کے لیے صحت کی ٹیمیں مختلف مقامات پر آگاہی مہم بھی چلا رہی ہیں۔
حکام کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران البرٹا میں خسرہ سے بچاؤ کی ایک لاکھ اکانوے ہزار سے زائد خوراکیں لگائی جا چکی ہیں اور لوگوں کو ٹیکے لگوانے میں آسانی فراہم کرنے کے لیے مراکز کے اوقات بھی بڑھا دیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خسرہ دنیا کی سب سے زیادہ متعدی بیماریوں میں سے ایک ہے اور یہ نمونیا، دماغ کی سوزش، حمل کے دوران قبل از وقت پیدائش اور حتیٰ کہ موت جیسے سنگین نتائج کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
دوسری جانب پڑوسی صوبوں میں صورتحال نسبتاً بہتر ہے۔ ساسکچیوان میں اس سال صرف پانچ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ برٹش کولمبیا میں اٹھارہ مریض سامنے آئے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ویکسینیشن کی شرح میں اضافہ ناگزیر ہے۔