اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ میں اس بار جارحانہ بیٹنگ کے نئے ریکارڈ قائم ہوگئے
مقابلوں کے دوران مجموعی طور پر 780 چھکے لگائے گئے جس کے بعد بلے اور گیند کے درمیان توازن کے بارے میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد گزشتہ عالمی کپ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ گزشتہ ایڈیشن میں مجموعی طور پر 517 چھکے لگائے گئے تھے، اس طرح موجودہ مقابلوں میں چھکوں کی تعداد تقریباً اکیاون فیصد زیادہ رہی۔ ماہرین کے مطابق جدید بیٹنگ انداز اور جارحانہ حکمت عملی نے اس ریکارڈ توڑ کارکردگی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مقابلوں کے دوران بڑے اسکور بنانے کا سلسلہ بھی جاری رہا اور دو سو رنز کا ہدف ریکارڈ چودہ مرتبہ عبور کیا گیا جو اس ایونٹ کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔فائنل مقابلے میں بھارت نے نیوزی لینڈ کے خلاف دو سو پچپن رنز بنا کر مختصر طرز کی کرکٹ میں اسکورنگ کے نئے معیار قائم کیے۔ دو سو پچاس سے زائد کے مجموعی اسکورز میں سے تین مرتبہ میزبان ٹیم نے یہ کارنامہ انجام دیا۔ پورے ایونٹ کے دوران ٹیموں کی مجموعی رفتارِ اسکور ایک سو چونتیس تک پہنچ گئی جو اس مقابلے کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔
ادھر پاکستان کے جارح مزاج بلے باز فخر زمان نے بھی ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے مختصر طرز کی بین الاقوامی کرکٹ میں ننانوے چھکے مکمل کر لیے اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی بلے باز بن گئے۔ان ریکارڈز کے بعد کرکٹ حلقوں میں بلے اور گیند کے درمیان توازن کے مسئلے پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے کہا کہ شائقین کو شاندار بیٹنگ ضرور دیکھنے کو ملی مگر کھیل میں بلے اور گیند کے درمیان توازن برقرار نہیں رہا۔
دوسری جانب نیوزی لینڈ کے کوچ روب والٹر کا کہنا ہے کہ اگر شائقین اس انداز کی کرکٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں تو اس پر زیادہ شکایت کی ضرورت نہیں، تاہم کھیل کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان مقابلہ برابر رہے۔ماہرین کے مطابق مختصر طرز کی کرکٹ میں جارحانہ بیٹنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان نے کھیل کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے، تاہم مستقبل میں قوانین اور میدان کی صورتحال کے حوالے سے تبدیلیوں پر بھی غور کیا جا سکتا ہے تاکہ بلے اور گیند کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔
۔