ایران، امریکا اور خطے میں کشیدگی میں تیزی؛ طیارہ بردار جہاز پر حملے کا دعویٰ، آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کا خدشہ، تیل 100 ڈالر سے اوپر
مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ مختلف دعوؤں اور جوابی بیانات کے باعث خطے میں فوجی اور معاشی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے، جبکہ عالمی توانائی منڈی بھی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی طیارہ بردار جنگی جہازابراہم لنکن کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ امریکی کیریئر پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا گیا۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے کم از کم چار بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی۔تاہم امریکی حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طیارہ بردار جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی میزائل اس کے قریب پہنچ سکے۔ امریکی حکام کے مطابق کیریئر معمول کے مطابق اپنے فوجی مشنز جاری رکھے ہوئے ہے۔
آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کا الزام
دوسری جانب امریکی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران نے اہم عالمی گزرگاہ **Strait of Hormuz** میں بارودی سرنگیں بچھانا شروع کر دی ہیں۔امریکی انٹیلی جنس حکام کے مطابق ایرانی فورسز بڑے جہازوں کی تباہی کے بعد اب چھوٹی کشتیوں کے ذریعے بارودی سرنگیں نصب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے پاس سینکڑوں چھوٹی تیز رفتار کشتیاں موجود ہیں جنہیں ماضی میں امریکی اور دیگر بحری جہازوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔امریکی حکام کے مطابق اگرچہ یہ عمل سست رفتار ہے لیکن ایران ممکنہ طور پر اس حکمت عملی کے ذریعے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی کو متاثر کرنا چاہتا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد خام تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی بھی متاثر ہوئی ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔عالمی مارکیٹ میں برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 9.29 ڈالر اضافے کے بعد 101.3 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 96.27 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا۔ماہرین کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جس سے قیمتوں میں تیزی برقرار ہے۔
امریکی فضائیہ کو حادثے میں نقصان
دوسری جانب عراق میں جاری فوجی کارروائی کے دوران امریکی فضائیہ کو ایک حادثے میں نقصان اٹھانا پڑا۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق فضائیہ کا فیول فراہم کرنے والا طیارہ آپریشن کے دوران مغربی عراق میں گر کر تباہ ہو گیا۔حکام کے مطابق یہ واقعہ آپریشن “ایپک فیوری” کے دوران پیش آیا۔ حادثہ دشمن حملے یا فرینڈلی فائر کے باعث نہیں ہوا بلکہ اس کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس سے قبل بھی اسی آپریشن کے دوران تین امریکی لڑاکا طیارے ایک فرینڈلی فائر واقعے میں تباہ ہو چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔علاقائی ممالک نے اپنے دفاعی نظام ہائی الرٹ پر رکھ دیے ہیں جبکہ عالمی برادری کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دے رہی ہے۔