اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز امریکا اور اس کے اتحادیوں کے علاوہ تمام ممالک کے لیے کھلا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ سے تجارتی اور بحری جہاز بغیر کسی رکاوٹ کے گزر سکتے ہیں۔ ایران نے بھارت اور ترکیہ کے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت بھی دی ہے اور دیگر ممالک کے جہازوں کے لیے بھی حفاظتی انتظامات یقینی بنائے جا رہے ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا اب آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے دیگر ممالک سے مدد طلب کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں امریکی سکیورٹی کی حکمت عملی اب کمزور پڑ چکی ہے اور یہ حالات خطے میں استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ عراقچی کے مطابق امریکا نے کئی سالوں سے اس آبی گزرگاہ کو اپنے فوجی اور تجارتی مفادات کے لیے کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن ایران کی جانب سے واضح موقف اختیار کرنے کے بعد امریکا کی حکمت عملی ناکام ثابت ہو رہی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام ممالک کے جہاز محفوظ ہیں، اور کسی بھی غیر ملکی فوجی مداخلت کو سختی سے رد کیا جائے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ شہری اور تجارتی جہاز بلا خطر گزر سکیں، اور کوئی بھی فریق اس پانی کے راستے کو اپنی سیاسی یا فوجی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال نہ کر سکے۔
عراقچی نے خبردار کیا کہ امریکا اور اس کے اتحادی خطے میں اپنی فوجی موجودگی کے ذریعے مسائل پیدا کر رہے ہیں اور ان کی ناکامی کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران کی جانب سے بھارت اور ترکیہ کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ ایران علاقائی اور عالمی سطح پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ذمہ داری سے کام کر رہا ہے۔
ایران نے اس موقع پر تاکید کی کہ آبنائے ہرمز کے ہر جہاز کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی اور کسی بھی حملے یا غیر قانونی مداخلت کے خلاف سخت ردعمل دیا جائے گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کو خطے میں اپنی فوجی حکمت عملی پر نظرثانی کرنی چاہیے، اور عالمی قوانین کے مطابق کشتیوں اور تجارتی راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے۔