پاکستان ہمارا دوست ملک،امریکہ پر اعتبار نہیں،دفاع کا حق محفوظ رکھیں گے،ایران

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے اپنے سفارتی اور دفاعی مؤقف کو

ایک بار پھر واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطے میں امن کے لیے کوششوں کا حامی ہے، تاہم بعض عالمی طاقتوں پر اسے اعتماد نہیں۔ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک حالیہ گفتگو میں بتایا کہ ایران، پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مثبت اور دوستانہ سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق تہران کو یقین ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مخلصانہ کردار ادا کر رہا ہے اور اس کی نیت خیرخواہ ہے۔ترجمان نے کہا کہ ایران کے وزیر خارجہ خطے کے مختلف ممالک، خصوصاً پڑوسی ریاستوں سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ موجودہ صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ کئی ممالک نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے، تاہم ایران نے ابھی تک کسی براہِ راست مذاکرات کا آغاز نہیں کیا۔
اسماعیل بقائی کے مطابق ایران کو ماضی میں امریکی سفارتکاری کا تلخ تجربہ رہا ہے، جس کی وجہ سے تہران اب امریکا کے بیانات اور یقین دہانیوں کو قابلِ اعتبار نہیں سمجھتا۔ اسی طرح اسرائیل کے حوالے سے بھی ایران کا مؤقف سخت ہے اور وہ اسے خطے میں عدم استحکام کا سبب قرار دیتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور دفاع کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اگر ملک کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے "سنگین اور فوری نتائج” برآمد ہوں گے، اور ایرانی مسلح افواج بھرپور ردعمل دیں گی۔
دریں اثنا، عالمی توجہ ایک بار پھر آبنائے ہرمز پر مرکوز ہے، جو تیل کی عالمی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ ہے۔ ایرانی ترجمان نے بتایا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر اس گزرگاہ پر مخصوص ضوابط نافذ کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق وہ ممالک جو ایران کے خلاف کسی کارروائی میں شامل نہیں، وہ ایرانی حکام کے ساتھ رابطے کے بعد محفوظ انداز میں جہاز رانی جاری رکھ سکتے ہیں۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ تاحال واضح نہیں کہ آیا ایران اس راستے سے گزرنے والے جہازوں سے کوئی فیس وصول کر رہا ہے یا نہیں، تاہم اس معاملے پر ایرانی پارلیمان میں مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا حالیہ بیان اس کی دوہری حکمتِ عملی کو ظاہر کرتا ہے، جس میں ایک طرف علاقائی ممالک کے ساتھ سفارتی روابط کو مضبوط کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف ممکنہ خطرات کے پیش نظر سخت دفاعی مؤقف بھی اختیار کیا جا رہا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں