اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پس پردہ مذاکرات کا خواہاں ہے
تاہم اس کی قیادت کو اس بات کا خوف ہے کہ اگر وہ کھل کر کسی معاہدے کی بات کرے گی تو اسے اپنے ہی عوام کے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔واشنگٹن میں ایک خطاب کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ ایران بظاہر خاموش ہے لیکن درحقیقت وہ ایک معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ ان کے مطابق ایرانی قیادت اس لیے کھل کر مذاکرات کی بات نہیں کر رہی کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ ایسا کرنے پر عوامی سطح پر سخت ردعمل سامنے آسکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایرانی رہنماؤں کو نہ صرف اپنی عوام بلکہ امریکا کے ردعمل کا بھی خوف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران نے معاہدے کی بات کی تو داخلی سطح پر مشکلات کا سامنا کرے گا، جبکہ دوسری جانب امریکا کی طاقت بھی ایک اہم عنصر ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اپنے خطاب میں ٹرمپ نے عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دنیا میں کئی تنازعات کو ختم کروانے میں کردار ادا کیا۔ ان کے بقول، “ہم نے آٹھ جنگیں رکوائیں اور ایک اور بڑی جنگ میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔”
امریکی صدر نے ایران کی عسکری صلاحیتوں پر بھی بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایرانی بحریہ اور فضائیہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض خبروں میں ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے امریکا اس صورتحال میں ناکام ہو رہا ہو، جسے انہوں نے “فیک نیوز” قرار دیا۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے ماحول میں اس قسم کے بیانات سفارتی اور سیاسی دباؤ بڑھانے کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی برادری دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔