اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا کی حکومت نے ایک نیا قانون پیش کیا ہے جس کا مقصد دیگر صوبوں سے آنے والی اشیا کی فروخت کو آسان بنانا اور غیر ضروری ضوابط کو کم کرنا ہے۔
یہ اقدام گزشتہ سال کیے گئے ایک اہم بین الصوبائی تجارتی معاہدے کا حصہ ہے، جس میں صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے مل کر آزاد تجارت کو فروغ دینے کا عزم کیا تھا۔
یہ تجارتی معاہدہ، جس کے اس موسم گرما میں نافذ ہونے کی توقع ہے، اس اصول پر مبنی ہے کہ مختلف صوبے ایک دوسرے کے زیادہ تر صارف اشیا کے ضوابط کو تسلیم کریں گے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایک ہی مصنوعات پر بار بار جانچ پڑتال اور مختلف شرائط عائد کرنے سے بچا جا سکے، جس سے کاروباری لاگت میں کمی اور تجارت میں تیزی آئے گی۔
تاہم اس معاہدے کے دائرہ کار میں کچھ اہم اشیا شامل نہیں ہیں۔ ان میں شراب، نشہ آور اجناس، خوراک، زندہ جانور، تمباکو اور پودے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صوبوں کو یہ اختیار بھی حاصل رہے گا کہ وہ صحت اور حفاظت کے پیش نظر بعض مصنوعات پر اپنی مخصوص پابندیاں برقرار رکھ سکیں۔
اسی تناظر میں البرٹا نے کچھ اشیا کے لیے اپنے موجودہ قوانین برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں زرعی ادویات، پلمبنگ کا سامان اور تحفے کے کارڈ شامل ہیں۔ خاص طور پر تحفے کے کارڈ کے حوالے سے صوبے کا قانون یہ ہے کہ ان کی میعاد ختم نہیں ہونی چاہیے، تاکہ صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
صوبائی وزیر برائے روزگار و معیشت جوزف شو نے اس قانون کے حوالے سے کہا کہ اگرچہ اس میں کچھ حدود موجود ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ اقدام شہریوں کے لیے زندگی کو مزید سستا بنانے اور کاروبار کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق اس سے نہ صرف اشیا کی دستیابی میں بہتری آئے گی بلکہ مقامی کاروبار کو بھی نئی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت کینیڈا میں بین الصوبائی تجارت کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے معیشت کو استحکام ملنے اور کاروباری مواقع میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔