البرٹا میں نئے بیمہ نظام سے ڈرائیورز کو سالانہ سینکڑوں ڈالر کی بچت متوقع

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایک نئی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے صوبہ البرٹا میں مجوزہ بیمہ نظام کی تبدیلی کے بعد گاڑی چلانے والے افراد کو ہر سال سینکڑوں ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے۔

یہ رپورٹ البرٹا آٹوموبائل انشورنس ریٹ بورڈ کی جانب سے جاری کی گئی ہے، جس میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ نئے نظام کے تحت ایک اوسط ڈرائیور سالانہ تقریباً 258.87 ڈالر تک کی بچت کر سکتا ہے۔ تاہم یہ بچت ہر فرد کے بیمہ کور کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔

اس منصوبے کے تحت صوبہ ایک ایسے نظام کی طرف جا رہا ہے جس میں حادثات کے بعد مقدمہ بازی (یعنی ایک دوسرے پر دعویٰ کرنا) کو کافی حد تک محدود کر دیا جائے گا۔ اس تبدیلی سے زخمیوں کے دعوؤں پر ہونے والے اخراجات میں کمی آئے گی، جو مجموعی طور پر بیمہ کی قیمت کم کرنے کا سبب بنے گی۔

دوسری جانب رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گاڑی کو پہنچنے والے نقصان کے بیمہ کی قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ بیمہ کمپنیاں موجودہ مالی خسارے کو پورا کرنے کی کوشش کریں گی۔

ایک شہری ریمنڈ سپیل مین کا کہنا ہے کہ وہ اس تبدیلی کے حق میں ہیں۔ ان کے مطابق پارکنگ جیسے معمولی حادثات پر وکلاء کی لمبی اور مہنگی لڑائیاں غیر ضروری ہیں، اور اس پر لاکھوں ڈالر خرچ نہیں ہونے چاہئیں۔

تاہم کچھ افراد اس نظام کے بارے میں محتاط ہیں۔ جیسن پراٹ، جو پہلے ساسکیچیوان میں رہ چکے ہیں اور وہاں کے اس نظام کا تجربہ رکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ اس میں کچھ فوائد ضرور ہیں مگر اس کے ساتھ اضافی اخراجات اور چیلنجز بھی ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح اسکاٹ ہینڈرسن کا کہنا ہے کہ اگرچہ بچت خوش آئند ہے، لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس کے بدلے میں کیا چیزیں قربان کی جا رہی ہیں۔

انشورنس بیورو آف کینیڈا نے اس رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے بہترین معیار کی اصلاحات قرار دیا ہے۔ ادارے کے مطابق اس سے قانونی اخراجات کم ہوں گے، ڈرائیورز کو مالی فائدہ ہوگا، اور حادثات میں زخمی ہونے والوں کو ملک میں سب سے بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نیا نظام مانیٹوبا کے عوامی بیمہ ماڈل سے متاثر ہوگا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ وہاں کا غیر منافع بخش نظام اور البرٹا کا نجی بیمہ نظام ایک جیسے نتائج نہیں دے سکتے۔

قانونی ماہر کرم ویر لالہ، جو البرٹا سول ٹرائلز ایسوسی ایشن سے وابستہ ہیں، نے خبردار کیا ہے کہ رپورٹ کے اندازے حقیقت سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ مفروضہ درست نہیں ہو سکتا کہ نجی کمپنیاں غیر منافع بخش سرکاری اداروں کی طرح رویہ اختیار کریں گی، اور نہ ہی یہ یقینی ہے کہ فراڈ کے امکانات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، خاص طور پر جب آمدنی کے نقصان کی مد میں ایک لاکھ تیس ہزار ڈالر تک کی سہولت فراہم کی جا رہی ہو۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں