کینیڈا میں 1970 کی دہائی کا خفیہ اسکینڈل بے نقاب

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا میں ایک چونکا دینے والی تحقیقاتی رپورٹ نے انکشاف کیا ہے

1970 کی دہائی میں ملک کے ممتاز مقامی رہنما جارج مینویل کو ریاستی اداروں کی جانب سے خفیہ نگرانی اور اندرونی جاسوسی کا سامنا تھا۔یہ انکشافات اس وقت سامنے آئے جب خفیہ سرکاری دستاویزات تک رسائی حاصل کی گئی، جن میں بتایا گیا ہے کہ کینیڈین پولیس ادارے رائل کینیڈین ماونٹڈ پولیس نے نیشنل انڈین برادرہڈ کے اندر اپنے مخبر تعینات کر رکھے تھے۔رپورٹ کے مطابق ایک خفیہ ایجنٹ، جسے "A-828” کا کوڈ دیا گیا تھا، تنظیم کے اندر موجود تھا اور وہ جارج مینویل کی نجی گفتگوؤں، سفری منصوبوں اور سیاسی حکمت عملی سے متعلق معلومات خفیہ طور پر حکام تک پہنچاتا رہا۔ اس کے علاوہ آر سی ایم پی نے فون ٹیپنگ، جسمانی نگرانی اور دیگر خفیہ ہتھکنڈوں کے ذریعے بھی جارج مینویل کی سرگرمیوں پر نظر رکھی۔
یہ نگرانی اُس وقت شدت اختیار کر گئی جب اُس وقت کے وزیر اعظم پیئر ٹرودوکی حکومت نے "وائٹ پیپر” پالیسی متعارف کروائی، جس کا مقصد مقامی افراد کو مرکزی دھارے میں ضم کرنا تھا۔ جارج مینویل اس پالیسی کے سخت مخالف تھے اور انہوں نے ملک گیر سطح پر مزاحمت کی تحریک کو منظم کیا، جس کے باعث وہ حکومتی اداروں کی نظروں میں ایک ممکنہ خطرہ بن گئے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ مینویل کے قریبی ساتھیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میںماری سمال فیس مارولے شامل تھیں۔ انہیں ایک "انتہا پسند” کے طور پر پیش کیا گیا اور ان کی سرگرمیوں پر بھی کڑی نظر رکھی گئی، حالانکہ بعد میں وہ ایک معزز ماہر تعلیم کے طور پر پہچانی گئیں۔
اس انکشاف پر ڈورین مینویل جو جارج مینویل کی بیٹی ہیں، نے گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ہمیشہ یقین تھا کہ ان کے والد کو اپنی کمیونٹی کی مکمل حمایت حاصل تھی، مگر اب معلوم ہوا کہ ان کے قریبی حلقے میں ہی کوئی شخص حکومت کو معلومات فراہم کر رہا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مخبر سامنے آئے اور سچائی کو بے نقاب کرے۔
ماہرین کے مطابق آ ر سی ایم پی کی یہ کارروائیاں امریکی ادارے ایف بی آئی کے متنازعہکاؤنٹر انٹیلی جنس پروگرام سے مماثلت رکھتی ہیں، جس کے تحت سیاسی اور سماجی تحریکوں کو خفیہ طریقوں سے کمزور کیا جاتا تھا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی نگرانی نہ صرف غیر مناسب تھی بلکہ اس میں نسلی امتیاز کے عناصر بھی شامل تھے۔
یہ واقعہ کینیڈا کی تاریخ کے ایک اہم اور حساس پہلو کو اجاگر کرتا ہے، جہاں ایک پرامن سیاسی جدوجہد کو ریاستی خطرہ سمجھ کر خفیہ نگرانی اور اندرونی جاسوسی کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی۔ آج، کئی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی، اس معاملے کی مکمل سچائی سامنے آنے کا انتظار ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں