اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز) ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز سے حملوں کے دعوے نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو نہایت کشیدہ بنا دیا ہے۔
ایران کے سرکاری اور نیم سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق، ان کارروائیوں کا مقصد خطے میں موجود امریکہ کے فوجی انفراسٹرکچر اور اسرائیل کی دفاعی صلاحیت کو نشانہ بنانا تھا۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے بیلسٹک میزائلوں اور جدید خودکش ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کو نشانہ بنایا، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ ان حملوں کو ایران نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدامات حالیہ علاقائی کشیدگی کے ردعمل میں کیے گئے۔
دوسری جانب امریکی اور اسرائیلی حکام نے فوری طور پر ان دعوؤں کی مکمل تصدیق نہیں کی، تاہم کچھ علاقوں میں دھماکوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق، ملک کے دفاعی نظام نے متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، جبکہ چند حملوں سے محدود نقصان کی اطلاعات ہیں۔
علاقائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اس قسم کی کارروائیاں کسی بڑے فوجی تصادم کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہیں۔اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل اور مذاکرات کی راہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔مزید اطلاعات اور تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آنے تک صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے، جبکہ دنیا بھر کی نظریں اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر مرکوز ہیں۔