اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی اور صوبہ البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے اعلان کیا ہے کہ مغربی ساحل تک نئی خام تیل پائپ لائن کی تعمیر خزاں ۲۰۲۷ میں شروع کیے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ گزشتہ برس طے پانے والے بڑے توانائی معاہدے کے اگلے مرحلے کے طور پر سامنے آیا ہے۔
کیلگری میں ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے بتایا کہ منصوبے کے تحت البرٹا میں کاربن اخراج کی نئی قیمت بندی نافذ کی جائے گی، جبکہ وفاقی حکومت رواں برس اکتوبر تک اس پائپ لائن کو قومی مفاد کا منصوبہ قرار دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔
منصوبے کے مطابق صنعتی کاربن اخراج کی مؤثر قیمت ۲۰۴۰ تک بڑھا کر فی ٹن ۱۳۰ ڈالر کی جائے گی، جبکہ سرکاری مقررہ قیمت موجودہ ۹۵ ڈالر سے بڑھا کر ۱۴۰ ڈالر فی ٹن تک پہنچائی جائے گی۔ مؤثر قیمت سے مراد وہ نرخ ہیں جن پر کاربن کریڈٹ فروخت کیے جاتے ہیں، جبکہ سرکاری قیمت وہ رقم ہے جو کمپنیاں اخراج کی حد پوری کرنے کے لیے حکومت کو ادا کرتی ہیں۔
ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ دونوں حکومتیں کینیڈا کو دنیا میں کم اخراج والی توانائی فراہم کرنے والا مضبوط عالمی ملک بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چند ہی ماہ میں نمایاں پیش رفت حاصل کی گئی ہے۔
اس منصوبے کے اگلے مرحلے میں بڑی تیل کمپنیوں کے اتحاد کے ساتھ باضابطہ اتفاقِ رائے درکار ہوگا۔ اس کے علاوہ مقامی فرسٹ نیشنز برادریوں سے مشاورت بھی ضروری قرار دی گئی ہے، جبکہ برٹش کولمبیا کی حکومت کے ساتھ رابطے جاری رکھنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا کہ اعتماد صرف اعلانات سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ تعاون، شراکت داری اور مقامی آبادی کے حقوق کے احترام سے پیدا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ہر منصوبے میں مقامی برادریوں کو معاشی فوائد اور شراکتی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
معاہدے میں قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کو آسان بنانے کا وعدہ بھی شامل ہے۔ تاہم اب تک کسی نجی کمپنی نے اس پائپ لائن کی تعمیر یا ملکیت سنبھالنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔
البرٹا کی صوبائی حکومت فی الحال اس منصوبے کی ابتدائی منصوبہ بندی اور مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ ابتدائی تجویز جولائی سے پہلے وفاقی حکومت کو پیش کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔