اردوورلڈکینیڈا(ویبب نیوز)دادو کی ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ نے ام رباب چانڈیو کے دادا کرم اللہ چانڈیو، والد مختیار چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کے ہائی پروفائل قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تمام ملزمان کو بری کر دیا۔ یہ کیس 17 جنوری 2018 کو میہڑ میں پیش آنے والے تہرے قتل کے واقعے سے متعلق تھا۔
عدالت نے 450 سماعتوں کے بعد یہ فیصلہ محفوظ کیا، جس کے پیش نظر سیشن جج دادو کے احکامات پر ضلع میں دفعہ 144 نافذ کی گئی۔ دادو پولیس نے عدالت اور مرکزی سڑکوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے، جن میں 6 ڈی ایس پیز، 33 ایس ایچ اوز اور 700 اہلکار شامل تھے۔ عدالت کے اندر غیر متعلقہ افراد اور میڈیا کے داخلے پر مکمل پابندی تھی۔
ملزمان میں ذوالفقار، علی گوہر، مرتضیٰ اور سکندر چانڈیو جیل میں ہیں، جبکہ ایم پی اے سردار احمد چانڈیو، ایم پی اے برہان خان چانڈیو، ستار چانڈیو اور اس وقت کے ایس ایچ او کریم چانڈیو ضمانت پر ہیں۔
ام رباب چانڈیو اس وقت شہ سرخیوں میں آئیں جب انہوں نے مقدمہ درج نہ ہونے پر ننگے پاؤں دادو کی مقامی عدالت کا رخ کیا تھا۔ سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے اس پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے کیس کو تین ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد ام رباب چانڈیو نے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔ ان کے وکیل صلاح الدین چانڈیو نے بھی تصدیق کی کہ تمام شواہد موجود ہونے کے باوجود دادو کی عدالت کا فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔