اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر کیلگری میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پس منظر میں شہری قیادت نے صوبائی حکومت سے مزید مالی معاونت کی امید ظاہر کی ہے، جبکہ آنے والے سال کے لیے پراپرٹی ٹیکس کی شرحوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
شہری کونسل نے منگل کے روز دو ہزار چھبیس کے لیے پراپرٹی ٹیکس کی منظوری دی، جو صوبائی بجٹ اور اس میں شامل حصے کے تعین کے بعد ممکن ہوئی۔
شہر کے اندازوں کے مطابق تقریباً سات لاکھ چھ ہزار ڈالر مالیت کے ایک عام رہائشی مکان پر سالانہ ٹیکس میں لگ بھگ تین سو نوے ڈالر اضافہ ہوگا۔ اس میں سے تقریباً انچاس ڈالر کا اضافہ بلدیاتی سطح پر ہے جو قریباً ایک اعشاریہ آٹھ فیصد بنتا ہے، جبکہ صوبائی تعلیمی محصول میں تین سو اڑتیس ڈالر کا نمایاں اضافہ شامل ہے جو اکیس فیصد کے برابر ہے۔
بلدیہ نے اپنے حصے کے اضافے کا فیصلہ گزشتہ برس ہی کر لیا تھا، تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے بجٹ میں اپنے حصے کی حتمی منظوری کے بعد مجموعی شرح سامنے آئی۔ صوبائی اضافے کے حجم پر شہر کے میئر جیرومی فارکس نے سخت تنقید کی اور کہا کہ تعلیمی ٹیکس میں دو سو بارہ ملین ڈالر سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اس پالیسی کا موازنہ وفاقی مالی تقسیم کے نظام سے بھی کیا، جسے پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم براہِ راست طلبہ اور نئے تعلیمی اداروں کے قیام پر خرچ ہوتی ہے۔
میئر نے اب زور دیا ہے کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث صوبے کو چاہیے کہ وہ بلدیات کے ساتھ زیادہ وسائل بانٹے۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے سبب بڑھتی ہوئی قیمتیں اضافی آمدنی کا باعث بن رہی ہیں، جس کا فائدہ شہروں تک پہنچنا چاہیے۔
دوسری جانب صوبائی حکومت نے اس مطالبے کو رد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یکم اپریل سے پہلے حاصل ہونے والی اضافی آمدنی موجودہ مالی خسارے کو کم کرنے کے لیے استعمال ہوگی، نہ کہ آئندہ برس کے متوقع خسارے کو پورا کرنے کے لیے۔ حکام کا کہنا ہے کہ چند ہفتوں کی بلند قیمتیں پورے سال کے مالی دباؤ کا ازالہ نہیں کر سکتیں اور اضافی رقوم کو فوری طور پر تقسیم کرنا ممکن نہیں۔
کونسل کے رکن ڈین مک لین نے کہا کہ مطالبہ کرنا ضروری ہے کیونکہ بعض اوقات سوال کیے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ماہرین معاشیات کے مطابق اگر تیل کی قیمتیں اسی سطح پر برقرار رہیں تو صوبے کی مالی حالت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے اور خسارہ بھی ختم ہو سکتا ہے۔
شہریوں کو پراپرٹی ٹیکس کے بل مئی میں ارسال کیے جائیں گے، جبکہ وہ اپنی متوقع ادائیگیوں کا تخمینہ بھی حاصل کر سکیں گے۔