اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا کی حکومت نے تعلیمی اداروں میں مبینہ سیاسی اور نظریاتی اثر و رسوخ کے خاتمے کے لیے ایک نیا قانون پیش کیا ہے، جس نے تعلیمی حلقوں اور سیاسی میدان میں بحث چھیڑ دی ہے۔ منگل کے روز پیش کیے گئے اس مجوزہ قانون کے تحت کلاس رومز میں غیر جانبداری کو یقینی بنانے اور طلبہ کے لیے ایک متوازن ماحول فراہم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر تعلیم دیمیٹریوس نکولائیڈس کے مطابق اس قانون کا مقصد اساتذہ اور تعلیمی عملے کے لیے واضح رہنما اصول مقرر کرنا ہے تاکہ تدریسی عمل میں کسی بھی قسم کی سیاسی یا نظریاتی مداخلت سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ان تبدیلیوں کے ذریعے احتساب کو مضبوط بنایا جائے گا اور یہ پیغام دیا جائے گا کہ تعلیمی اداروں میں سیاست کی کوئی جگہ نہیں۔ ان کے بقول بنیادی ترجیح طلبہ کی حفاظت، اعلیٰ تعلیمی معیار اور نوجوانوں کو کامیاب مستقبل کے لیے تیار کرنا ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت اسکول بورڈز کو بھی پابند کیا جائے گا کہ وہ ایسے سیاسی یا سماجی معاملات پر کوئی مؤقف اختیار نہ کریں جو ان کی ذمہ داریوں سے متعلق نہ ہوں، حتیٰ کہ عوامی بیانات دینے سے بھی گریز کیا جائے گا۔ تاہم اس قانون میں اساتذہ کے لیے نئی سزاؤں کا ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں موجودہ تادیبی نظام کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ تعلیمی عملے کو ایسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کا حق دیا جائے گا جو ان کے ذاتی عقائد سے متصادم ہوں، سوائے ان معاملات کے جو منظور شدہ نصاب کا حصہ ہوں۔ اس کے علاوہ اسکول بورڈ کے منتخب نمائندوں کے لیے ضابطہ اخلاق میں آزادیِ اظہار کے تحفظ اور ذمہ دارانہ حکمرانی کے اصول شامل کیے جائیں گے۔
نئے قانون کے تحت اگر کوئی منتخب نمائندہ وفاقی انتخاب یا ضمنی انتخاب میں حصہ لینا چاہے تو اسے ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ سے بچنے کے لیے بغیر تنخواہ رخصت لینا ہوگی۔
دوسری جانب صوبائی سطح کے امتحانات میں بھی بڑی تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے۔ اس قانون کے تحت ڈپلومہ اور دیگر معیاری امتحانات کو آن لائن نظام میں منتقل کیا جائے گا، جس کا مقصد اخراجات میں کمی اور امتحانی نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ تاہم اس تبدیلی کے نفاذ کی حتمی تاریخ ابھی واضح نہیں کی گئی۔
اپوزیشن کی جانب سے اس قانون پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت ایک ایسے مسئلے پر قانون سازی کر رہی ہے جو درحقیقت موجود ہی نہیں، اور اسے ترجیحات کے غلط تعین کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اساتذہ کی ہڑتال کے باعث رواں سال کے آغاز میں کئی اہم امتحانات منسوخ کر دیے گئے تھے، جبکہ طلبہ کو آئندہ مہینوں میں دوبارہ امتحان دینے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر یہ قانون البرٹا کے تعلیمی نظام میں نمایاں تبدیلیوں کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔